76

’لائن آف کنٹرول پر انڈین چوکی تباہ، پانچ فوجی ہلاک‘

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر تتہ پانی سیکٹر میں ایک انڈین فوج کی چوکی کو تباہ کر دیا جس میں پانچ انڈین فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

جمعرات کی شب پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ کیا کہ پاکستانی فوج کی جانب سے تباہ کی جانے والی انڈین فوجی چوکی سے ’معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’معصوم شہریوں کے خلاف انڈین دہشت گردی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘

اس ٹویٹ کے ساتھ انھوں نے ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں ایک مقام کو نشانہ بنانے کے بعد دھواں اٹھتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ انڈیا نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے بٹل سیکٹر میں ایک سکول وین کو نشانہ بنایا تھا جس میں وین ڈرائیور کی ہلاکت ہوئی تھی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر عام شہریوں کا نشانہ بنانے کی ’غیرپیشہ وارانہ اور غیر اخلاقی‘ حکمت عملی جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سکول بچوں کی وین کا نشانہ بنایا جنیوا کنوینشن اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں ایک بار پھر لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور دونوں جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے ہیڈکواٹر میں کور کمانڈروں کے ایک اجلاس میں پاکستان کے اندر دہشت گرد گروہوں کے خلاف آپریشن ردالفساد کی پیش رفت اور کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر انڈیا کی طرف سے بڑھتی ہوئی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔

وسری طرف انڈیا بھی پاکستان فوج پر جنگی بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتا ہے اور انڈیا کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ماہ جنوری میں کشمیر میں جنگی بندی کی خلاف ورزیوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

انڈیا کی فوج کے سربراہ جنرل بپن روت نے گذشتہ دنوں ہی دعویٰ کیا تھا کہ جنگی بندی کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے پاکستان فوج کا نقصان انڈین فوج کی نسبت تین سے چار گنا زیادہ ہو رہا ہے۔

جبکہ پاکستان حکام کے مطابق لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر صرف جنوری کے مہینے کے پہلے بیس دن میں انڈیا کی طرف سے 150 خلاف ورزیاں کی گئیں جس میں نو شہری ہلاک اور چالیس کے قریب زخمی ہوئے۔

پاکستانی حکام کے مطابق گذشتہ سال انڈیا کی طرف سے ایک ہزار نو سو خلاف ورزیاں کی گئیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں لائن آف کنٹرول پر راجوری سیکٹر میں بھمبر گلی کے مقام پر فائرنگ کے تبادلے میں انڈین فوج کا ایک کپتان اور تین فوجی اہکار بھی ہلاک ہو ئِے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں