76

سندھ آبادی سے خالی ہوجائے گا

جون 2015ء میں قدرت نے ہمیں کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر ایک کڑوی وارننگ دی۔ ہم نے مگر حسب روایت سبق نہ سیکھا۔ یہ جون 2015ء تھا کہ جب کراچی میں اس بلاکی گرمی پڑی کہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپرکا درجۂ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپرکا محسوس ہوتا۔ اس جان لیوا گرمی نے 2 سے 3دنوں میں لاوارث شہرکراچی کے ڈیڑھ ہزار سے زائد شہریوں کی جان لے لی۔

ہمارے میڈیا پہ دو چار دن دکھاوا، شور شرابا ہوا، حکومتی سطح پہ ’’نوٹس لے لیا‘‘ جیسے کچھ روایتی گھسے پٹے ڈرامے رچائے گئے اور عام لوگوں نے وقتی توبہ تلا مچائی اور جو ہوا سو ہوا ہوگیا۔ ہم نے یوں قدرت کی اس وارننگ سے جان چھڑائی۔ مگر کب تک؟ شاید آپ نے سیاسی چٹخاروں، وی آئی پی احتساب و انصاف کی نزاکتوں و لطافتوں اور اردو بولنے والے مہاجروں کے نچلے اور نچلے متوسط طبقے کی قیادت کی ’’فطانت و فراست‘‘ کی شاہکار، دیہی سندھ کے وڈیروں کی دائمی وابدی سعادت مند و وفا شعار ایم کیو ایم کی پل پل رنگ بدلتی ٹی وی پریس کانفرنس سیریلز کی دلچسپیوں میں محویت کے باعث یہ نوٹ نہ کیا ہوکہ اس سال سندھ خصوصاً تباہ شدہ کراچی میں سردی کا دورانیہ کچھ اور سکڑگیا اور سردی کی کیفیت میں کچھ اور بھی گراوٹ آگئی۔

یہ وہ سفر ہے کہ جس کے جلو میں ہم سیاسی چٹخاروں میں مست الست اس منزل کی طرف تیزی سے بڑھتی چلے جا رہے ہیں کہ جہاں جون 2015ء میں پڑنے والی گرمی معمول کا سا موسم ہوگی۔ جہاں در حقیقت ایسی گرمی ہوگی کہ انسانی زندگی کا زندہ رہنا ناممکنات میں سے ہوگا۔

جی ہاں اور یہ کوئی سیاسی بیان نہیں اور نہ ہی ہمارے حکمرانوں کا نوٹس لینے جیسا کوئی ڈراما ہے۔ یہ تو دراصل ایک ٹھوس نتیجہ ہے دنیا کے معتبر ترین اور اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی کی تعلیم دینے والے ادارے میسا چیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے تحقیق دانوں کی اس سائنسی تحقیق کا جس میں انھوں نے کمپیوٹر سمیویشنزکی بنیاد پہ کی جانے والی اسٹڈی سے پتہ لگایا ہے کہ موجودہ صدی کے آخر تک برصغیر جنوبی ایشیا کا بڑا حصہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں اتنا زیادہ گرم ہوجائے گا کہ یہاں انسانی زندگی کا برقرار رہنا ممکن نہیں رہے گا۔

ان تحقیقات میں جنوبی ایشیا کے اس بڑے حصے سے مراد بنگلہ دیش، شمالی ہندوستان اور جنوبی پاکستان ہیں۔ جنوبی پاکستان میں پورا کا پورا صوبہ سندھ آتا ہے۔ ہمارے ہاں جہاں حکومتی اور عوامی سطح پہ بنا کسی تحقیق اورکام کے بڑے بڑے دعوے کرنے کی لت پائی جاتی ہے وہیں بڑے اطمینان اور لاپرواہی سے بین الاقوامی ریسرچ کے نتائج کو ردکردینے کی بھی عادت راسخ ہے۔ مگر آپ ایم آئی ٹی کی اس ریسرچ کے نتائج کو مسترد نہیں کرسکتے کیونکہ صوبہ سندھ کے اس حد تک گرم ہونے کا آغاز ہوچکا ہے کہ جہاں آگے چل کے انتہائی شدت کے حدت کے باعث انسانوں کا زندہ رہنا ہی مشکل ہوگا اور نتیجتاً صوبہ سندھ کے لوگوں کو دوسرے علاقوں یعنی شمال کی جانب لا محالہ ہجرت کرنی پڑے گی اور وہ بھی مستقل بنیادوں پر، سندھ آبادی سے خالی ہوجائے گا، اس آبادی سے کہ جس کے حقوق دلانے کے دعویدار سندھ کی دولت، ترقیاتی بجٹ اور دوسرے وسائل اپنے تصرف میں لاکر دنیا بھر میں جائیدادیں، کاروبار اور بینک اکاؤنٹس بنائے جارہے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیاں ایک عالمی حقیقت ہیں۔ دنیا کے مختلف علاقوں کے گرم ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ ہمارا خطہ موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید ترین متاثر ہونے والا جغرافیہ ہے۔ سندھ کے مسلسل گرم ہوتے موسم کی کچھ بنیادی وجوہات ہیں جن میں سر فہرست سندھ کی سبز چھایا کا اجڑجانا ہے۔ سندھ میں پچھلے کچھ عرصے خصوصاً حالیہ دس سالوں میں ہولناک حد تک وسیع پیمانے پہ جنگلوں، پارکس اور درختوں کا صفایا کیا گیا ہے۔

آپ لٹے پٹے کراچی کی ہی مثال لے لیجیے کہ جہاں پچھلے دس سال میں کراچی کے لوگ وزارتوں، سرکاری ملازمتوں، ترقیاتی فنڈز، مقامی پولیس، با اختیار بلدیاتی اداروں، پانی اور صحت و صفائی کی سہولتوں کے حق سے یکسر محروم کیے گئے وہیں ان کے شہر سے ہزاروں درختوں کا سایہ بھی چھین لیا گیا۔ نارتھ ناظم آباد سے لے کر کلفٹن تک کتنے ہی پارک لینڈ مافیا کی بھینٹ چڑھ گئے۔ آپ کو مگر کراچی کے نمایندے ان مسائل پہ کبھی بھی پریشان نظر نہیں آئیں گے۔

سابقہ کراچی اور موجودہ کوڑاچی شہر میں درختوں کا کس تیزی اور کتنے بڑے پیمانے پر صفایا کیا گیا اس کا اندازہ آپ مرحوم سٹی گورنمنٹ (سی ڈی جی کے) کی 2008ء کی ایک رپورٹ سے لگایئے جس میں مصنوعی سیاروں (سیٹلائٹ) کے امیجزکے ذریعے کراچی کے کل علاقے کے سات فی صد رقبے پہ درختوں کے سبز کور کا پتہ چلاتھا۔ 2016ء تک یعنی صرف آٹھ سال میں درختوں کا یہ سبز کور سکڑ کر شہر کے کل رقبے کا صرف 3 فی صد رہ گیا۔ مختلف این جی اوز کے جمع کردہ ڈیٹا کے ذریعے اس حقیقت کا پتہ چلا۔ ادھر 2015ء میں ورلڈ اکنامک فورم نے کراچی کو دنیا کے 20 بیس سب سے زیادہ آلودہ ترین شہر میں شمولیت کا اعزاز بخشا۔

2016ء میں کراچی نے مزید ’’ترقی‘‘ کی اور پیٹ گیسٹ کے ڈیٹا گرافکس اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی گائیڈ لائنز کے مطابق کراچی دنیا کے پانچ سب سے زیادہ آلودگی کے شکار شہروں میں پایاگیا۔ کراچی کی اس مسلسل تباہی پہ نہ تو کراچی کو سندھ کا اٹوٹ انگ کہنے والے، نہ ہی کراچی کو منی پاکستان کہنے والے اور نہ ہی خود کو کراچی کا نمایندہ کہنے والے کبھی پریشان ہوتے یا احتجاج کرتے پائے گئے۔

یہ کچھ اسی طرح ہے کہ جیسے حالیہ دو دہائیوں میں ہندوستان نے پاکستان کے حصے کے دریاؤں پہ 40 سے زائد ڈیم اور بیراج تعمیرکرلیے مگر پاکستان میں ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کرنے والوں اور تشدد کی دھمکیاں دینے والوں نے کبھی بھارت کے پاکستان کے دریاؤں پر ڈیمز اور بیراجز کی تعمیر کے خلاف احتجاج تو دور کی بات لب کشائی تک نہ کی۔ اب اگر ڈیمز اور بیراجز کی بات چل نکلی ہے تو یہ بلا جواز نہ ہوگا کہ ہم پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (PCRWR) کی حالیہ رپورٹس اور وارننگز کا حوالہ دیں جن کے مطابق سن 2025ء تک پاکستان کو شدید خشک سالی اور پانی کی خطرناک کمی کے ادوار کا سامنا کرنا پڑے گا جہاں پاکستان کی پانی کی ضروریات 2025ء تک بڑھ کر MAF 274 (ملین ایکڑ فٹ) ہوجائیںگی وہیں پانی کی سپلائی کم ہوکر MAF 191 رہ جائے گی ایک طرف تیزی سے پھیلتا گرم موسم کا دورانیہ اور دوسری طرف خشک سالی اور پانی کی شدید کمی۔

سندھ میں یہ سارے عوامل اور بھی زیادہ خوفناک اس لیے بھی ہوجاتے ہیں کہ سندھ کے سمندری ساحل، دریا، نہریں، جھیلیں اور تالاب تقریباً سب ہی بد ترین آلودگی کا شکار ہوچکے، رہے سہے درختوں اور جنگلوں کا بھی صفایا جاری ہے۔ سندھ کو گرمی سے کھولتا ابلتا بے آباد و بنجر خطہ بننے سے روکنے کے لیے بہت سے بنیادی اور وسیع پیمانے کے کام کرنے ہوںگے۔ مثلاً (1) بہت بڑے پیمانے پہ مقامی درختوں کی شجرکاری اور جنگلوں، پارکس اورگرین بیلٹس کی بحالی کا قیام۔ (2)صوبے بھر کے تمام سمندری ساحلوں، دریاؤں، نہروں، جھیلوں وغیرہ پہ واٹر فلٹر پلانٹس کی تنصیب اور آپریشن۔ (3)سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بشمول کچرے سے توانائی پیدا کرنے والے ویسٹ نو اینرجی پلانٹس کا قیام اور کام۔ (4) پلاسٹک شاپنگ بیگز پر مکمل پابندی جس پہ مکمل عمل در آمد بھی ہو۔ (5)دھواں پھیلانے والی گاڑیوں پہ بھاری جرمانے۔ (6) کوئلے سے بجلی پیدا کرنے سے مکمل پرہیز۔ (7) زمینی آبی اور ہوائی آلودگی پیدا کرنے والی سرگرمیوں پہ مکمل پابندی۔ (8) کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی۔

نقل زدہ امتحانات اور گھوسٹ اسکولوں کی آغوش میں گرتا تعلیمی معیار، سماجی و شہری شعور کی تقریباً مکمل تباہی اور لسانی تعصب والی میرٹ پہ ہونے والی سرکاری بھرتیاں اور سب سے بڑھ کر ہر طرف پھیلی کرپشن اس لازمی گڈ گورننس کو ناممکن بناتے ہیں جو سندھ کو موسمیاتی تبدیلی کی تباہی سے بچاسکے۔ چلیں چھوڑیں یہ خشک غیر دلچسپ باتیں، سیاست انجوائے کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں