39

عوام ذمے دار ہوں گے

یہ پاکستان ہے یہاں سب کچھ ہوسکتا ہے اخلاقیات، مذہب، معاشرتی قیودوحدود سب گئے بھاڑ میں ہمیں تو جوکرنا ہے وہ ہی کریں گے اورکہیں گے شرمندہ ہونا ہمارا کام ہی نہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ کس طرح کے ہیں عقل سمجھ سے بالاتر بات ہے۔ مریم نواز نے سوشل میڈیا کے ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان جیسی زبان استعمال کرنے وا لوں کو جواب بھی ویسا ہی ملے گا،اب بچہ بھی سمجھ سکتا ہے ان کا مخاطب کون ہے یعنی اگر عمران خان یا کوئی گالیاں دے ر ہا ہے تو مریم نواز بھی اس زبان میں اُن کی طبعیت صاف کریں گی۔

تو سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ مریم آپ میں اور دو سروں میں فر ق کیا رہ گیا۔ آپ بھی اسی قبیلے کی سودائی ٹھریں پھر لیڈر قائد وغیرہ بننے کی باتیں نہ کریں۔ اگر آپ پر کچھ الزامات تھے تو صبر و تحمل برداشت، شائستگی سے اُن کا سامنا کرنا تھا مگر جھو ٹ درجھو ٹ قطری خط کی منہ دکھائی بھی کام نہ آئی بلکہ اس نے تو کا م ہی خراب کیا اور جب پکڑائی میں آگئے تو پھر ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کی گردان شروع ہو گئی۔ قانون سے بالادست توکوئی بھی نہیں ہے۔

چوری کے ایک مقدمے میں ایک بالادست قبیلے کی ایک خاتون کا نام سامنے آیا، تمام ترتحقیق اور ثبوتو ں کے بعد وہ مجرم ثابت ہو گئیں تو سزا سے بچانے کے لیے کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس تشر یف لے گئے جہاں آپ ﷺ نے واضح طور پر فرما دیا کہ اگر میری بیٹی بھی اس کام میں شر یک یا چوری کی مرتکب ٹھہرتیں تو اُن کو بھی قانون کے مطابق ہی سزا ملتی مگر ان ن لیگ والوں کو اب بھی عقل نہیں آئی۔ اب عدلیہ جیسے ادارے کو گالیوں سے نوازا جائے گا، کیا اسی پاکستان کے خواب دیکھے گئے تھے قائداعظم نے اسی پا کستان کو بنانے میں اپنی ساری توانائی خرچ کی تھی؟

لودھراں، ضمنی الیکشن کے بل بوتے پر جس پر سارے جہاں کے حکومتی فائدے اُ ٹھاکر اس جیت کو ممکن بنا کر سمجھ رہے ہیں کہ 2018ء میں بھی ہم مسند اقتدارکے مزے لو ٹیں گے۔ منتخب نمایندے چوری کریں، ڈاکوؤں کی پشت پناہی کریں، طاقت کا بے جا استعمال کریں مگر اُن کوکچھ نہ کہا جائے اُن پر سات خون بھی معاف ہیں۔ ایک معمولی ملازم جوکوئی ہلکی پھلکی چوری کا مرتکب ر ہ چکا ہوکیا اُس کو ہم لوگ اپنے دفتروں،کارخانوں میں رکھ لیں گے اور اس کو چور نہیں بادشاہ کے لقب سے پُکاریں گے چورکو چورکہا جاتا ہے ساہوکار نہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ معاشرے میں قائدانہ صلاحیتوں کا اظہارکرنا ہے تو اپنے اطوارکو درست کرنا ہو گا، دوسروں کے عیوب کو طشت ازبام کرنا، من الحیث القوم ہمارا مزاج بن گیا ہے کہ ہم دو سروں کے عیبوں کا جھوٹ سچ کی آمیزش کے ساتھ ا تنا پرچارکر دیں کہ اس پر حقیقت کا گماں ہو نے لگے مگرکبھی اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی اور نہ ہی اپنے محاسبے کا خیال آتا ہے دوسرے کی آ نکھ کا تنکا بھی شہتیر لگنے لگتا ہے، پورے معاشرے کا یہ حال بن چکا ہے کس کس کو رویا جائے ہر سطح پر ہی یہ حال ہے کہ اگرگالیاں مل رہی ہیں تو جواب میں پھول نہیں برسائے جا رہے بلکہ نت نئی گالیوں سے ہی اس گالی دینے والے کی ذات کے پرخچے اُڑائے جارہے ہیں۔

نواز شریف نے خوب کہا کہ ججز سے اللہ پوچھے گا تو معصومانہ سوال اُ ن سے یہ ہے کہ کیا اللہ پاک صرف ججزکی ہی پکڑکر ے گا یا پھرکبھی موصوف کی بھی نوبت آئے گی اگر کھُلی آنکھوں سے اپنا محاسبہ کریں صرف ایک رات اسی غور و فکر میں گزاریں کہ آپ نے ملک وقو م کے لیے کیا کیا تو شاید پتہ چل جائے کہ اللہ آپ سے بھی پوچھے گا۔ آپ کے دور میں جس جس نے کرپشن کی، غلط حرکات کیں کتنے لوگو ں نے صرف مالی بدحالی کی وجہ سے خودکشیا ں کیں، کتنے لوگ آپ کے متوالوں کی دشنام طرازی کا شکار ہوئے۔

ماڈل ٹاؤن کے چودہ شہیدوں اورکتنے ہی لوگوں کی بے سروسامانی کے بارے میں آ پ سے بھی اللہ پوچھے گا کہ محلوں میں رہتے ہوئے دل اتنے سخت ہو گئے کہ ان لوگوں کا خیال بھی ایک لمحے کے لیے دامن گیر نہ ہوا کہ جو مہنگائی کے ہاتھو ں اپنی ہی زندگی کا خاتمہ کر بیٹھے کیونکہ وہ اپنے بچو ں کو بھو ک سے بلکتے تڑپتے اپنی بچیو ں کو معاشرے میں ذلیل ورسوا ہوتے نہیں دیکھ سکتے تھے۔

قانون کے نام پر قانون کی دھجیا ں بکھرنے والوں کے جرُم میں صاحب اقتدار بھی برابرکے شر یک ہیں اللہ ہر بات کے لیے پوچھے گا جتنی نعمتیں آپ کو ملی ہیں اس کا بھی حساب ہوگا کہ یہ جائز طریقے سے حاصل کی گئی یا لوگوں کا خون نچوڑکر حاصل ہوئی ہیں۔ ڈریں اُ س وقت سے کہ اللہ پاک یہ حساب کہیں دنیا میں ہی لینا شروع نہ کردے۔ نااہل ہونا آزمائش نہیں سزا ہے سوچا جائے تو اب بھی وقت ہے اپنا محاسبہ کرلیں تا کہ توبہ دروازے کھلے ملیں ورنہ جب یہ دروازے بند ہوجائیں گے تو کوئی توبہ کام نہ آئے گی۔

ملک سے لوٹی ہوئی دولت ملک میں واپس لے آئیں تاکہ خلق خدا کا فائدہ ہو عہدہ حاصل کرنا وزیر اعظم بننا ہی خواہش نہ ہو بلکہ لوگوں کی خدمت کریں، آپ وزیر اعظم نہ ہوں گے تو جب بھی ملک ترقی کر ے گا، الیکشن قریب ہیں، عوام کے لیے بھی اپنے محاسبہ کرنے ضروری ہے کہ کیا اب بھی ہم ان لوگوں کو ووٹ دیں گے جوآزمائے ہوئے ہیں، اگر یہ ہی لوگ دوبارہ آگئے تو اس کے ذمے دار عوام ہی ہوںگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں