78

سینیٹ الیکشن کے لئے پولنگ کا عمل جاری

اسلام آباد: سینیٹ میں ملک کے چاروں صوبوں، فاٹا اور وفاقی دارالحکومت کی 52 نشستوں پر پولنگ کا آغاز ہوگیا ہے جس کے لیے 131 امیدوار میدان میں ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق قومی اسمبلی اور ملک کی چاروں اسمبلیوں میں سینیٹ کی 52 نشستوں پر پولنگ کا آغاز ہوگیا ہے۔ اراکین شام 4 بجے تک ووٹ ڈال سکیں گے۔ الیکشن کمیشن کے انتخابی عملے نے پارلیمنٹ ہاؤس میں قائم پولنگ اسٹیشن کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

سینیٹ انتخابات میں چاروں صوبوں کی 7، 7 جنرل نشستوں پر امیدواروں کا انتخاب کیا جائے گا، اسی طرح ہر صوبے سے خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی 2، 2 نشستوں پر امیدواروں کا چناؤ ہوگا، سینیٹ میں اقلیتوں کی 2، فاٹا کی 4 اور اسلام آباد کی 2 نشستوں کے لئے بھی مختلف جماعتوں کے امیدوار آمنے سامنے ہیں، اسلام آباد کی ایک نشست جنرل اور دوسری ٹیکنوکریٹ کے لئے مختص ہے، متعلقہ اسمبلی کے ممبران ترجیحی بنیادوں پر خفیہ رائے شماری دیں گے جس امیدوار کو زیادہ ترجیحی ووٹ ملیں گے وہ سینیٹر بن جائے گا۔

بلوچستان میں جنرل نشست پر سینیٹر کے انتخاب کے لئے 9 جب کہ ٹیکنوکریٹ اور خاتون نشست کے لئے 33، 33 ووٹ درکار ہوں گے۔ خیبرپختونخوا سے جنرل نشست پر سینیٹر بننے کے لئے اٹھارہ ووٹ درکار ہوں گے، ٹیکنو کریٹ اور خاتون کی مخصوص سیٹ کے لیے 62، 62 ووٹوں کی ضرورت ہو گی۔ سندھ سے جنرل نشست کے لیے 24 جب کہ ٹیکنوکریٹ اور خاتون کی نشست کے لئے 84، 84 ووٹ درکار ہوں گے۔پنجاب سے ایک جنرل نشست کے لئے 53 ووٹ ڈالے جائیں گے، خاتون اور ٹیکنوکریٹ کی نشست کیلئے امیدواروں کو 186، 186 ووٹوں کی ضرورت پڑے گی۔ فاٹا کی چار نشستوں کے لئے قومی اسمبلی میں موجود 11 ارکان ووٹ دیں گے، ہر رکن  چار امیدواروں کو ووٹ دے سکے گا، 5 یا اس سے زائد امیدواروں کو ووٹ دینے والے کا ووٹ مسترد کردیا جائے گا۔

دوسری جانب سینیٹ انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق بھی جاری کردیا ہے، جس کے تحت قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین کو اسمبلی سیکرٹریٹ کا کارڈ ساتھ لانا ہوگا، پولنگ کے دوران پولنگ اسٹیشن کے باہر رینجرز اور ایف سی تعینات ہوگی۔ تمام ووٹرایک ہی راستے سے پولنگ اسٹیشن جائیں گے اورکسی کے لیے کوئی خاص راستہ مختص نہیں ہوگا۔ پولنگ اسٹیشن میں موبائل فون لانے پرمکمل پابندی ہوگی، بیلٹ پیپر اورووٹ کی رازداری کو یقینی بنانا ہوگا، بیلٹ پیپرپولنگ اسٹیشن سے باہرلے جانے پرمکمل پابندی ہوگی، بیلٹ پیپرکو خراب کرنے، جعلی بیلٹ پیپراستعمال کرنے پر کارروائی ہوگی۔

ضابطہ اخلاق کے مطابق پولنگ کے دوران ریٹرننگ افسرکو مجسٹریٹ درجہ اول کے تحت اختیارات حاصل ہوں گے، کسی بھی قسم کی بے قاعدگی یا بدنظمی پرآراوانتخابی عمل معطل کرسکے گا، ریٹرننگ افسرکو سمری ٹرائل کرکے فوری سزا سنانے کا حق حاصل ہوگا، وہ غیرمتعلقہ شخص کو بیلٹ پیپردینے پر فوری سزا سنا سکتا ہے، اس کے علاوہ ریٹرننگ افسرکو بیلٹ پیپر منسوخ کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پرایک لاکھ روپے تک جرمانہ اور6 ماہ سے 2 سال تک قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے، الیکشن کمیشن مجازہے کہ جرمانہ اور قید کی سزا ایک ساتھ سنا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں