58

کسٹم کی ضبط شدہ مہنگی گاڑیوں کی کوڑیوں کے بھاؤ فروخت

اسلام آباد: اطلاعات کے مطابق کسٹم حکام کی جانب سے ضبط شدہ گاڑیاں مبینہ طور پر کرپشن کاایک بڑا ذریعہ بن چکی ہیں اور ایسی کئی مہنگی گاڑیاں بااثر دوستوں کو کوڑیوں کے بہاؤفروخت کردی جاتی ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات پر ایف بی آر اور محکمہ کسٹمز نے ایسی مہنگی گاڑیوں کی فہرست تیار کی جو چند ماہ قبل کسی شخص یا محکمہ کو کوڑیوں کے بہاؤ فروخت کی گئیں۔ فہرست پورے ملک سے تیار کی گئی لیکن تاحال اس کا کچھ خاص فائدہ نہیں ہوا۔

سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو بتایاکہ ’’ کم از کم چار مہنگی گاڑیاں سابق چیئرمین ایف بی آر کےگھر کھڑی ہوئی ہیں، ایک ریٹائرڈ ممبر ایف بی آر اور ایک موجودہ ممبرا یف بی آر کےگھر کھڑی ہے۔ سائگنس ماڈل کی ایک مہنگی گاڑی جس کی مارکیٹ قیمت تقریباً 2کروڑ 50 لاکھ روپے ہے، یہ گاڑی ایک سابق چیئرمین ایف بی آر کے گھر اُن کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کھڑی ہے لیکن انھوں نے کبھی محکمہ کو یہ گاڑی واپس کرنے کی زحمت نہیں کی۔‘‘

ایف بی آر کےکسٹمز حکام کی جانب سے ضبط شدہ گاڑیوں کی دواقسام ہیں۔ پہلی، اسمگل شدہ نان ڈیوٹی پیڈگاڑیاں جنھیں کسٹمزحکام ضبط کرلیتے ہیں اور دوسری بوگس گاڑیاں۔ پہلی قسم میں ایف بی آر سمگل شدہ گاڑیوں کو نیلام کردیتا ہے لیکن دوسری قسم میں اصول وضوابط کے تحت گاڑیاں سرکاری محکموں کے حوالے کرنے کیلئے ایف بی آر صرف ٹوکن منی وصول کرتا ہے۔

ذرائع کہتے ہیں کہ بوگس گاڑیوں کی درست تعداد کم ازکم 1000 بنتی ہے کیونکہ اندرونی طورپر انھیں اکٹھا نہیں کیاجاتا، تاہم کسٹمز حکام کادعویٰ ہے کہ پاکستان بھر میں ان گاڑیوں کی کل تعداد 232 ہے جنھیں محکمہ کسٹمز نےگزشتہ پانچ برسوں میں ضبط کیا۔ کسٹمز کے نچلے سٹاف نے اِن بوگس گاڑیوں کی مختلف چیزیں چوری کرلیں، جو گاڑیاں ایف بی آر کے پاس ہوتی ہیں اُن کے ساتھ ایسا کرنا عام بات ہے۔

دی نیوز کو دستیاب سرکاری دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو مالی سال 14-2013 اور 15-2014 کے دوران ماڈل کسمٹز کولیکٹوریٹ (ایم سی سی ) فیصل آباد نے 286 گاڑیاں ضبط کیں جن کی کل مالیت 33کروڑ20 لاکھ روپے بنتی ہے۔ 15-2014 کے دوران ضبط شدہ 108گاڑیوں کی فہرست سے ظاہر ہوتا ہے کہ Toyota Land Cruiser ZX V8 ماڈل 2014 کی قیمت ایک کروڑ 70لاکھ،Toyota Land Cruiser ماڈل 2012 ایک کروڑ 40لاکھ، Toyota Vitz Carماڈل 2007 قیمت 11لاکھ 25ہزارروپےاورToyota Corolla Carماڈل 2007 کی قیمت 8لاکھ روپے تھی۔

ان 108 ضبط شدہ گاڑیوں میں کم قیمت والی گاڑیاں یہ ہیں۔ مزدہ منی ٹرک ماڈل 1989قیمت 4لاکھ 92ہزار روپے، ٹیوٹا ہائیس وین ماڈل 1988قیمت 4لاکھ 38ہزار، ٹیوٹا کرولاکارماڈل1993 قیمت 5لاکھ 60ہزاراور ہنڈاکارماڈل 2000قیمت 7لاکھ روپے۔

اسلام آباد ماڈل کسٹمز کولیکٹوریٹ میں بوگس گاڑیوں کی ٹوکن منی ایک ہزار روپے سے ایک لاکھ تک بڑھائی دی گئی تھی اوراُن محکموں کومخصوص ہدایات بھی دی گئی تھیں جو ایف بی آر سے یہ گاڑیاں حاصل کیا کرتے تھے۔

سرکاری ذرائع کہتے ہیں،’’ اِن قیمتوں کوکئی گنا بڑھانے کی ضرورت ہے اور پبلک سیکٹرڈیپارٹمنٹس کے ساتھ کھلےعام نیلامی ہونی چاہیئےکیونکہ اِس وقت یہ گاڑیاں دوستوں اور جان پہچان والوں کو کوڑیوں کے بہاؤ دے دی جاتی ہیں۔‘‘ ایف بی آر کے افسران میں مجرم موجود ہیں لیکن کئی ایماندار افسران بھی موجود ہیں جیسا کہ ایک حالیہ مثال سابق ڈائریکٹرجنرل محمد سلیم کی ہے انھوں نے دسمبر 2017 ریٹائرمنٹ سےایک دن قبل پہلا کام یہ کیاکہ اپنی سرکاری گاڑی کی چابی واپس کردی۔ ایسے ایماندار افسران کو سراہے جانے کی ضرورت ہے۔

ایف بی آر کے افسران میں یہ کام بڑھتا جارہا ہے کہ جب اُنھیں گاڑی واپس کرنے کا کہاجاتاہے تو وہ پریشان ہوجاتے ہیں اور جو بھی انھیں یہ کہتا ہے،اُسےخوفناک نتائج کی دھمکیاں دینے لگتے ہیں۔

ایف بی آرنےحال ہی میں سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا ہے کہ 15-2014سے اب تک کُل 3363 گاڑیاں ضبط کی گئیں ہیں، پشاور میں 1026، کوئٹہ 2150، کراچی 187 اور دیگر شہروں میں 449 گاڑیاں ضبط کی گئیں۔ انھوں نے دعویٰ کیاکہ وہ ضبط شدہ چیزوں اور گاڑیوں کو ہر مہینےنیلام کرتے ہیں۔ لیکن انھوں نے اراکینِ پارلیمنٹ کو کبھی ایسی بوگس گاڑیوں کے بارے میں نہیں بتایا جنھیں نیلام نہیں کیاجاتا۔

گزشتہ ہفتے اس صحافی نے ترجمان ایف بی آر ڈاکٹر اقبال سے رابطہ کیا، انھوں نے مشورہ دیا کہ جواب لینے کیلئے رکن کسٹمز سے رابطہ کیاجائے۔ جب اُن کے آفس گئے تو بتایا گیا کہ وہ لاہور جاچکے ہیں۔ جب بروز اتوار ایف بی آر کےرکنِ کسٹمززاہد کھوکھرسے ٹیلی فون پر رابطہ کیاگیاتو انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات پر انھوں نے 2004 میں بوگس گاڑیوں کی نیلامی ختم کردی تھی کیونکہ اُن کے چیسیز نمبر کئی گاڑیوں میں استعمال کیے گئےتھے۔

انھوں نےکہا کہ صرف 232 گاڑیاں ایسی ہیں جنھیں ایف بی آر نے گزشتہ پانچ سال میں ضبط کیا۔ انھوں نے بتایا کہ محکمہ کسٹمز نے ان گاڑیوں کو استعمال کیا کیونکہ گزشتہ کئی برسوں سے انھوں نے فیلڈ کے کاموں کیلئے گاڑیاں نہیں خریدیں۔ جب ایسی گاڑیوں کے غلط استعمال کی جانب اُن کی توجہ ڈلائی گئی تو انھوں نے کہاکہ اگریہ ثابت ہوگیا تو وہ کارروائی کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں