115

صادق آگیا‘ امین آ رہا ہے

گجرات کا ٹھیاواڑ کے علاقے کَچھ میں میمن کمیونٹی کے36 گاﺅں تھے‘ میمنوں نے دو سو سال قبل مختلف کاروبار شروع کئے اور یہ کاروبار آہستہ آہستہ ان کے ناموں کا حصہ بن گئے‘ مثلاً چمڑے کا کاروبار کرنے والے چامڑیا بن گئے‘ تیل کا کاروبار کرنے والے تیلی بن گئے اور موتیوں کا کاروبار کرنے والے موتی والا ہو گئے‘ یہ لوگ بیسویں صدی کے شروع میں کراچی آنا شروع ہو ئے‘ میمنوں کی بڑی شفٹنگ قیام پاکستان کے بعد ہوئی‘ یہ

لاکھوں کی تعداد میں پاکستان آئے اور پورٹ سٹی کی وجہ سے کراچی کو اپنا مرکز بنا لیا‘ میمنوں کے ساتھ ساتھ بوہرہ کمیونٹی بھی کراچی آ گئی‘ یہ لوگ بھی گجرات کے رہنے والے ہیں‘ گجراتی زبان میں مونگ پھلی کو مانڈوی کہا

جاتا ہے‘ میمن اس مناسبت سے مونگ پھلی کا کاروبار کرنے والوں کو مانڈویا کہتے ہیں لیکن سلیم مانڈوی والا میمن نہیں ہیں‘ یہ بوہرہ کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں چنانچہ یہ مانڈویا نہیں ہیں‘ یہ مانڈوی والا کہلاتے ہیں‘ یہ لوگ 1921ءسے کراچی میں آباد ہیں اور یہ کھرب پتی ہیں‘یہ رئیل سٹیٹ‘ مینوفیکچرنگ‘ آٹو موبائل‘ انٹرٹینمنٹ اور پلاسٹک کا کاروبار کرتے ہیں‘ سلیم مانڈوی والا کا خاندان 1960ءسے زرداری خاندان کا ”فیملی فرینڈ“ ہے‘ حاکم علی زرداری بمبینوسینما کے مالک تھے جبکہ مانڈوی والا گروپ نشاط سینما چلاتا تھا‘ نشاط پاکستان کے بہترین سینماﺅں میں شمار ہوتا تھا‘ یہ لوگ اس زمانے میں فلمیں بھی بناتے تھے‘ یہ لوگ آج بھی یہ کاروبار کر رہے ہیں‘ سلیم مانڈوی والا پڑھے لکھے اور ذہین شخص ہیں‘ یہ کمرشل پائلٹ بھی ہیں اور یہ لسبیلہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر بھی رہے‘ ان کا سیاسی کیریئر 2008ءمیں شروع ہوا‘ آصف علی زرداری نے صدر بننے کے بعد سلیم مانڈوی والا کو بورڈ آف انویسٹمنٹ کا چیئرمین بنا دیا‘ یہ ان کی پہلی سرکاری اور سیاسی تقرری تھی‘ پیپلز پارٹی کے 99 فیصد لوگ 2008ءسے پہلے ان کے نام تک سے واقف نہیں تھے‘

بورڈ آف انویسٹمنٹ میں ان کی کارکردگی مایوس کن تھی‘ یہ پانچ برسوں میں وہاں کوئی کمال نہ کر سکے‘ آصف علی زرداری کے دوست ڈاکٹر عاصم حسین 2012ءمیں دہری شہریت کی وجہ سے سینٹ سے مستعفی ہو گئے‘ یہ زرداری صاحب کے انتہائی قریبی دوست تھے چنانچہ زرداری صاحب نے دوست کی نشست پر دوست کو بٹھا دیایوں سلیم مانڈوی والا سینیٹر بن گئے‘ آصف علی زرداری نے انہیں فروری 2013ءمیں چار ماہ کےلئے وزیر خزانہ بھی بنا دیا‘ یہ چار ماہ وزارت خزانہ کی تاریخ کا یاد گار ترین دورانیہ تھا‘

وزارت میں اس دوران کیا کیا ہوتا رہا یہ آپ وزارت خزانہ کے لوگوں سے پوچھ لیں‘ آپ کے طوطے اڑ جائیں گے‘ اسلام آباد کے واحد فائیو سٹار مال کا سینما تک اس دور میں مانڈوی والا گروپ کو الاٹ ہواتاہم مال کو گیس کنکشن نگران وزیراعظم میر ہزار خان کھوسوکے صاحبزادے نے دلایا تھا‘ یہ ڈیل وزیراعظم آفس میں ہوئی تھی‘ مال کے مالکان نے گیس کنکشن کےلئے نگران وزیراعظم کے صاحبزادے کو کتنی رقم دی نیب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو خط لکھ کر سارے ثبوت حاصل کر سکتا ہے‘

نگران وزیراعظم نے 45 دنوں میں ساڑھے چار سال کے برابر کرپشن فرمائی‘ صرف کلاشنکوف کے 45 ہزار لائسنس جاری ہوئے اور ہر لائسنس کی ”فیس“ وزیراعظم آفس کے صوفوں پر وصول کی گئی ‘ لوگ بریف کیس کے ساتھ وزیراعظم آفس آتے تھے اور اپنا کام کروا کر چلے جاتے تھے‘ آپ کو یقین نہ آئے تو آپ ڈاکٹر مصدق ملک سے پوچھ لیجئے‘ یہ اس زمانے میں پانی اور بجلی کے نگران وزیر تھے لیکن یہ تمام بعد کی کہانیاں ہیں‘ ہم ابھی سلیم مانڈوی والا کے زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں‘

یہ حکومت کے خاتمے تک وزیر خزانہ رہے‘ حکومت کی مدت ختم ہوئی تو خزانہ بھی خالی تھا‘ دہشت گردی بھی روزانہ کی بنیاد پر ہو رہی تھی‘ بجلی کے گردشی قرضے بھی 480ارب روپے تک پہنچ چکے تھے‘ لوڈ شیڈنگ بھی 14گھنٹے ہوتی تھی اور پورا حکومتی نظام بھی دلدل میں پھنسی گاڑی بن چکا تھا۔سلیم مانڈوی والا مارچ 2015ءمیں دوسری بار سندھ سے سینیٹر منتخب ہوئے‘ آصف علی زرداری انہیں اس بار چیئرمین بنانا چاہتے تھے لیکن یہ کام پاکستان تحریک انصاف کے 13 ووٹوں کے بغیر ممکن نہیں تھا‘

آصف علی زرداری نے شاہ محمود قریشی کے ذریعے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن عمران خان نہ مانے‘ یہ پبلک اور میڈیا کے پریشر سے گھبرا رہے تھے‘ زرداری صاحب ہر صورت سلیم مانڈوی والا کو چیئرمین دیکھنا چاہتے تھے‘ یہ اس خواہش کی تکمیل کےلئے ایک سال سے کام کر رہے تھے‘ یہ نومبر 2016ءمیں میاں نواز شریف کی حکومت ختم کر سکتے تھے لیکن صرف سینیٹ کے الیکشنوں نے ان کا ہاتھ روکے رکھا‘ زرداری صاحب نے چیئرمین شپ کےلئے بلوچستان میں حکومت تبدیل کی‘

یہ وہاں سے آٹھ آزاد سینیٹر بھی لے آئے‘ اسٹیبلشمنٹ نے اس سارے کارنامے میں بطور سہولت کار ان کا ساتھ دیااور یہ کے پی کے اسمبلی سے سات ایم پی ایز کے ساتھ دو سینیٹرز بھی نکال لائے لیکن یہ اس کے باوجود چیئرمین کےلئے ووٹ پورے نہ کر سکے‘ زرداری صاحب پی ٹی آئی کے ووٹ حاصل کرنا چاہتے تھے‘ پی ٹی آئی بھی انہیں ووٹ دینا چاہتی تھی لیکن یہ عوامی دباﺅ سے ڈرتی تھی چنانچہ پھر درمیان کا راستہ نکالا گیا‘دونوں پارٹیوں کو صادق ”فراہم“ کر دیا گیا‘

آپ یہاں دلچسپ صورتحال ملاحظہ کیجئے‘ صادق سنجرانی کو آصف علی زرداری جانتے تھے اور نہ ہی عمران خان‘ بلوچستان کے آزاد سینیٹرز اور وزیراعلیٰ بھی انہیں چیئرمین نہیں بنانا چاہتے تھے‘ یہ انوارالحق کاکڑ کو اس سیٹ پر دیکھنا چاہتے تھے‘ صادق سنجرانی نے خود بھی کبھی اس پوزیشن کا خواب نہیں دیکھا تھا‘ یہ سینیٹر بننے کے بعد داخلہ یا تجارت کی سٹینڈنگ کمیٹی کا چیئرمین بننا چاہتے تھے لیکن پھریہ اچانک سامنے آئے اور تمام فریقین نے ان کے نام پر اتفاق کر لیا لیکن اس اتفاق کے دوران آصف علی زرداری نے سلیم مانڈوی والا کےلئے ڈپٹی چیئرمین شپ لے لی‘ یہ ڈیل میاں نواز شریف کی وجہ سے پایہ تکمیل تک پہنچی‘

میاں نواز شریف نے رضا ربانی کا نام لے کر زرداری صاحب کےلئے آسانی پیدا کر دی‘ زرداری صاحب نے گیارہ مارچ کو واضح پیغام دے دیا ہمیں اگر اس ڈیل میں کچھ نہیں ملے گا تو ہم میاں نواز شریف کی پیش کش قبول کر لیں گے‘ ہم رضا ربانی کو امیدوار بنا دیں گے اور رضا ربانی فیصلہ ساز قوتوں کو قبول نہیں تھے چنانچہ عمران خان نے سلیم مانڈوی والا کو ووٹ دینے کا فیصلہ کر لیا‘ آپ کےلئے شاید یہ بات اب حیران کن نہیں ہو گی پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم دونوں ”ٹیک اوور“ ہو چکی ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی الیکشن سے پہلے ”ٹیک اوور“ ہو جائے گی‘ نگران حکومت کونئی حلقہ بندیاں کر نی پڑیں گی‘

نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے الیکشن ایک سے دو ماہ لیٹ ہو جائیں گے‘نئی حلقہ بندیوں پر صرف ن لیگ کو اعتراض ہو گا‘ باقی جماعتیں خامو ش رہیں گی‘الیکشن کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی‘ پاکستان تحریک انصاف‘ ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو گی اور اس ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے نتائج سینٹ کے الیکشنوں جیسے نکلیں گے‘سینٹ میں صادق سنجرانی کی شکل میں صادق آ چکا ہے جبکہ عام الیکشنوں کے بعد امین بھی سامنے آ جائے گا‘

پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کو نو نو وزارتیں مل جائیں گی‘ وزارت عظمیٰ بلوچستان کے امین کو مل جائے گی‘ سپیکر کے پی کے سے چن لیا جائے گا اور ڈپٹی سپیکر سندھ سے آ جائے گا‘ ن لیگ 75 ایم این ایز کے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھ جائے گی‘ میاں نواز شریف جیل میں ہوں گے اور میاں شہباز شریف دو تین خوفناک مقدمات کے ساتھ ایک بار پھر وزیراعلیٰ پنجاب بن جائیں گے یوں نیا پاکستان شاہراہ ترقی پردوڑتا نظر آئے گامگر یہ مستقبل کا نقشہ ہے‘ ہم ابھی 2018ءکے مارچ میں ہیں اور یہ مارچ آصف علی زرداری اور سلیم مانڈوی والا کا ہے۔

عمران خان تسلیم کریں یا نہ کریں لیکن یہ حقیقت ہے پاکستان تحریک انصاف نے سلیم مانڈوی والا کو ووٹ دے کر سیاسی حماقت کی انتہا کر دی‘ یہ اگر ڈیل تھی تو اس ڈیل کا صرف اور صرف ایک ونر ہے اور وہ ونر آصف علی زرداری ہیں‘ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے ووٹ لے کر عمران خان سے تمام گالیوں کا بدلہ لے لیا‘ پاکستان تحریک انصاف کا نیا پاکستان 12 مارچ 2018ءکو پاکستان پیپلز پارٹی کے پرانے تابوت میں دفن ہو گیا‘ عمران خان اب اس لکیر کو جتنا چاہیں پیٹ لیں لیکن لاٹھی ٹوٹنے کے علاوہ کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا‘

آپ سیاسی حماقت دیکھئے آپ نے اپنے 13 ووٹ آصف علی زرداری کی جھولی میں ڈال دیئے لیکن آپ سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کےلئے ایم کیو ایم کے در پر جانے پر مجبور ہو گئے‘ کیایہ اصول ہیں‘ کیایہ سیاست ہے؟میں کہنے پر مجبور ہوں عمران خان نے اس ڈیل میں سیاست اور اصول دونوں ہار دیئے‘آپ نے اگر سیاست کی تھی تو آپ نے اس میں کیا پایا؟ اور آپ اگر اصولوں کی بات کرتے تھے تو آپ کے اصولوں نے ملک کی سب سے بڑی بیماری آصف علی زرداری کے امیدوار کو کیوں ووٹ دیئے؟

کیا پاکستان تحریک انصاف کے پاس اس سوال کا کوئی جواب ہے؟ پاکستان تحریک انصاف قوم کی امید تھی‘ ملک میں پچاس سال بعدکسی تیسری قومی پارٹی نے جنم لیا تھا‘ قوم دل سے اس تبدیلی پر خوش تھی لیکن افسوس صد افسوس تیسری پارٹی نے پہلی دو پارٹیوں کا کچرہ اکٹھا کر کے اور اپنی سیاسی حماقتوں کا انبار لگا کر پورے ملک کے خواب توڑ دیئے ‘ آپ آج پاکستان پیپلز پارٹی‘ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف تینوں کو ایک قطار میں کھڑا کر دیجئے‘ آپ کو ان تینوں میں کوئی فرق نہیں ملے گا چنانچہ ملک میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو رہا ہے اس پر صرف اور صرف انا للہ و انا الیہ راجعون ہی کہا جا سکتا ہے‘ آپ دیکھتے جائیں‘ روتے جائیں‘ آگے بڑھتے جائیں اور اللہ سے توبہ کرتے جائیں اور بس۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں