66

کہاں وہ، کہاں یہ

کبھی قائد اعظم ثانی کبھی شیر شاہ سوری ثانی  اور اب نظر تیمور کی اولاد پر ہے ۔ شاہ جہاں کے بیٹے، جہانگیر کے پوتے، جلال الدین اکبر کے پڑ پوتے پر جو خود ظہیر الدین محمد بابر کا پوتا تھا…داراشکوہ جس کا مطلب ہے ’’King of Glory‘‘اور جو برصغیر کی تاریخ میں فلسفی شہزادہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے اور ان کی وجہ شہرت؟وہ پیدائشی شاعر، خطاط اور مصور تھا اور یہ؟وہ علماءکے ہجوم میں گھرا رہتا تھا اور یہ؟جتنی کتابیں اس نے لکھیں، ہمارے ’’ممدوح‘‘ نے زندگی بھر چھوئی بھی نہ ہوں گی۔مجمع الجرین۔ سفینتہ الاولیاء، جوگ شست، سکینہ اولیاء، حسنات العارفین ، مکالمات داراشکوہ۔ اسے فارسی، عربی، ترکی اور سنسکرت جیسی زبانوں پر عبور حاصل تھا اور اس پرچی بادشاہ کو؟محمد داراشکوہ 20مارچ 1615 کو پیدا ہوا۔ 30اگست 1659صرف 44سال کی عمر میں قتل کر دیا گیا۔ اس کا دھڑ ہمایوں کے مقبرہ میں دفنایا گیا لیکن کوئی نہیں جانتا کہاں، کیونکہ خطرہ تھا کہ عوام وہاں منتیں ماننے لگیں گے ۔داراشکوہ کو یہ نام اس کے دادا نور الدین جہانگیر نے دیا۔ ابو طالب کلیم نے قصیدہ کہا’’گل اولین شاہی‘‘ سے تاریخ نکالی۔ اپنی کتاب

’’سفینتہ الاولیا‘‘ میں اپنی پیدائش کے متعلق خود لکھتا ہے’’اس فقیر نے اجمیر شریف کے قریب ساگر تال جھیل کے قریب جنم لیا‘‘اس کی علمی بنیاد رکھنے والوں میں ملا عبدالطیف اور شیخ میرک سرفہرست ہیں۔ داراشکوہ شیخ میرک سے بہت متاثر تھا جو عربی، فارسی زبانوں کے جید عالم تھے۔ داراشکوہ کم سنی میں ہی دکھوں سے آشنا ہو گیا تھا۔ شاہجہان اور ممتاز محل کا یہ چہیتا فرزند، والدین کی خصوصی محبت اور توجہ کے سبب بچپن سے ہی بھائیوں کے حسد کا ہدف بن گیا تھا۔ دادا جہانگیر کی زندگی میں وہ اپنی سوتیلی دادی ملکہ نور جہاں کے برتائو سے بھی پریشان اور افسردہ رہا۔

شہزادہ اکثر بزرگوں کے مزاروں پر حاضر ہو کر وہاں گھنٹوں گم سم بیٹھا رہتا۔ سفینتہ الاولیاءمیں لکھتا ہے کہ ’’حضرت امام ابوحنیفہ سے لیکر حضرت عبدالقادر جیلانی تک وہ تمام صوفیوں، بزرگوں سے عقیدت رکھتا ہے۔ دعا کرتا ہے کہ جن حضرات کا ذکر کیا ہے ، ان کی دعائیں اسے ملتی رہیں، روحانی زندگی میں زیادہ سے زیادہ رفعت و بلندی نصیب ہو۔‘‘داراشکوہ اپنے والد شہزادہ خرم (شاہ جہاں) کے ساتھ پہلی بار حضرت میاں میر(میاں جیو) سے 17شوال 1043 ھ کو ملا تھا جس کا ذکر ’’بادشاہ نامہ‘‘ جلد اول میں ملتا ہے۔ سکینتہ الاولیاء کے صفحات 38,39پر بھی اس واقعہ کا بیان ہے۔ ’’داراشکوہ چار ماہ سے علیل تھا۔ شہزادہ خرم (بعد ازاں شاہ جہاں) اپنے پیارے بیٹے کو لے کر دعائوں کے لئے حاضر ہوئے۔4ماہ مسلسل علاج کے باوجود افاقہ نہ ہوا تو شہزادہ خرم حضرت میاں میر کے حجرے تک بیٹے کو لیکر آئے۔میاں میر نے اپنے مٹی کے پیالے میں پانی بھرا، دعا پڑھی اور شہزادہ دارشکوہ کو پلا دیا۔

ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ بیماری دور ہو گئی۔شہزادہ دارشکوہ نے مختصر سی عمر میں کئی چھوٹے رسالے بھی لکھے جن میں ’’رسالہ حق نما‘‘کو بڑی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ تقریباً تیس صفحات پر مشتمل ہے جس سے داراشکوہ کی صوفیانہ فکر و نظر بارے بخوبی جانکاری ہو سکتی ہے جن میں دو باتیں بہت بنیادی اور اہم ہیں۔اول :روحانی ارتقاء کی مختلف منزلیں کیا ہیں؟دوم:روحانی منزل کے نقطہ عروج تک پہنچنے کے ذرائع کیا ہو سکتے ہیں؟کن راہوں سے گزر کر روحانی استحکام کی منزل تک پہنچا جا سکتا ہے۔یہ تو تھیں داراشکوہ کی زندگی کی چند جھلکیاں ، جو چاہے اس کا موازنہ داراشکوہ ثانی کی کہانی سے کر کے ثواب دارین حاصل کر سکتا ہے۔کہاں وہ ، کہاں یہ!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں