89

ایگزیکٹ کیس ، عدم اعتماد کے بعد سماعت ممکن نہیں ، جج کے ریمارکس

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ایگزیکٹ جعلی ڈگری اور منی لانڈرنگ کیس میں مرکزی ملزم شعیب شیخ کوجمعرات کو بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں ایگزیکٹ جعلی ڈگری اور منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی۔ملزمہ عائشہ شیخ، ذیشان انور، ذیشان احمد، علی غفار و دیگر ملزمان پیش ہوئے۔ملزمان کے وکیل نے جج پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل نے مقدمہ دوسری عدالت میں سماعت مقرر کرنے کی درخواست دائر کردی ہے۔دوران سماعت ایگزیکٹ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اس عدالت میں کیس نہیں چلانا چاہتے اور مقدمات دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔جج نے ریمارکس میں کہا کہ عدم اعتماد کے بعد کیس چلانا ممکن نہیں رہا، مقدمات کی مزید سماعت بغیر کارروائی کے7 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔ استغاثہ کے مطابق ملزمان پر منی لانڈرنگ کے ذریعے قومی خزانے کو کروڑوں روپے نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔استغاثہ کے مطابق چیف ایگزیکٹو آفیسر ایگزیکٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کراچی شعیب احمد شیخ ولد

شبیراحمد شیخ کے خلاف 14 اکتوبر 2015 کو شام 4 بج کر 30 منٹ پر ڈپٹی ڈائریکٹر ایکسچینج پالیسی ڈپارٹمنٹ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مدعیت میں زیر دفعہ 5،8،،22اور23 فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ R/W 1947 ، 109 PPC کے تحت ایف آئی آر نمبر 51/2015 سب انسپکٹر ایف آئی اےمحمد منصور مہمند نے درج کی،ایف آئی اے نے تحقیقات کرتے ہوئے اہم معلومات اور شواہد حاصل کئے، انکوائری نمبر 42/15کے نتیجے میں یہ بات ثابت ہوئی کہ ایگزیکٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ملزم شعیب احمد شیخ ولد شبیر احمد شیخ نے بیرون ملک حوالہ کے ذریعے غیر قانونی طورپر بھاری رقوم منتقل کیں، منتقل کئے گئے 170.17 ملین روپے شعیب احمد شیخ نےاپنے دیگر ساتھیوں ملزمان ڈائریکٹرچندا ایکسچینج ۔بی پرائیویٹ لمیٹڈکراچی محمد یونس ولد عبدالستار اور برانچ منیجر ایکسچینج ۔بی پرائیویٹ لمیٹڈ کراچی محمد جنید ولد عبدالکریم کی ملی بھگت سے بیرون ملک منتقل کیے اور ان دونوں ملزمان کے خلاف علیحدہ سے بھی ایف آئی آر نمبر 51/2015 زیر دفعہ 5،8،22،23فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 ایکٹ R/W109 /34PPC کے تحت تھانہ ایف آئی اے کمرشل بینک سرکل کراچی میںمقدمہ درج کیا گیا ہے، اس گھناؤنے مقصد کےلیے شعیب احمد شیخ ولد شبیر احمد شیخ نے اپنی والدہ نسیم اختر کے نام سے نجی بینک اکاؤنٹ نمبر 054179881074-03 ڈی ایچ ایس برانچ میں 10 اپریل 2014 کو حوالہ ٹرانزیکشن کےلیےقائم کیا، اسی اکاؤنٹ سے متحدہ عرب امارات میں رقوم ایگزیکٹ وینڈر کو بھیجی گئیں،ایف آئی اے نے بتایا ہے کہ حوالے کےذریعے غیر قانونی طورپر بیرون ملک منتقل کی جانے والی رقوم اپنے تین وینڈرز کو بھیجی جاتی تھیں جن میں ملزمان بنام زکی شووی،اسماعیل ڈوسرے اور واجد شامل ہیں ،ایف آئی اے کی جانب سے بتایاگیا ہے کہ مذکورہ تینوں ملزمان متحدہ عرب امارات میں ہی مقیم تھےاور ایگز یکٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شعیب احمد شیخ ولد شبیر احمد شیخ انہیں حوالے کے ذریعے رقوم منتقل کرتا تھا اور شعیب احمد شیخ خود اپنی والدہ کے نام سے قائم بینک اکاؤنٹ کے چیک جاری کرتا تھا جس پر دستخط بھی شعیب احمد شیخ ہی کرتا تھا، شعیب احمد شیخ کی ہدایت پر ایگزیکٹ کا فنانس ڈپارٹمنٹ اس کے جاری کردہ چیک کو ایگزیکٹ وینڈر ڈیکس کورئیرکے ملازم محمد علی کو دیتا تھا اور محمد علی نامی ملازم حاصل کردہ چیک کو آگےملزم برانچ منیجر چندا ایکسچینج محمد جنید کو دیتا تھا جو حوالے کےذریعے اس کی ترسیل کو یقینی بناکر چیک کیش کراتا تھا،عدالت عالیہ کو بتایاگیاکہ انکوائری کے دوران نجی بینک کے 116چیک حاصل کیے گئے اور تمام حاصل کردہ چیکس پر ایگزیکٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شعیب احمد شیخ ولد شبیر احمد شیخ کے دستخط موجود ہیں،اس عمل سے ملزم کے طریقہ واردات کی بھی نشاندہی ہوتی ہے اور اس تحقیقات کے نتیجے میں ثابت ہوتاہےکہ ملزم شعیب احمد شیخ نے غیر قانونی طورپر حوالہ کےذریعےسے ملزمان محمد یونس اور محمد جنید کی ملی بھگت سے بھاری رقوم بیرون ملک منتقل کیں جس سے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا اور شعیب احمد شیخ کا یہ عمل قابل سزا جرم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں