70

ججز یا بیوروکریٹس؟ آئندہ انتخابات میں ریٹرننگ آفیسر زکون ہونگے؟

اسلام آباد (طارق بٹ ) 2018ء کے عام انتخابات کی براہ راست نگرانی اور انعقاد کا ذمہ دار کون ہوگا؟ عدلیہ یا پھر سول بیوروکریسی؟ سوال یہ ہے کہ ریٹرننگ افسران کے فرائض کون انجام دے گا؟ ججز یا کہ سرکاری ملازمین ؟ریٹرننگ افسران انتخابات کے انعقاد میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، باضابطہ طور پر انتخابات کے انعقاد کی ذمہ داری تفویض ہونے کے بعد یہ افسران ہی الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اصل معاون ہوتے ہیں، امیدواروں کی اہلی و نااہلی کا فیصلہ کرنا، شکایات کا ازالہ کرنا، الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق انتخاب منعقد کروانا اور نتائج ترتیب دینا یہ سب انہی ریٹرننگ افسران کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 220 کے مطابق وفاقی اور صوبائی انتظامیہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ الیکشن کے انعقاد کے لیے چیف الیکشن کمیشنر اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی مکمل معاونت کریں۔ تاہم آئین کی یہ شق ماتحت عدلیہ کے افسران کو ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر (ڈی آر او) یا ریٹرننگ آفیسر (آر او) تعینات کرنے سے متعلق نہیں بتاتی ،اس کیمطابق ضلعی سطح کے سرکاری

افسران ہی الیکشن کے دوران فرائض انجام دے سکتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تو ایسے ہی ہوتا تھااور ججوں کو ڈی آر او یا آر او تعینات نہیں کیا جاتا تھا، تاہم یہ روایت گزشتہ پارلیمانی انتخابات کے دوران تبدیل ہو گئی۔ 2009 ء میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی مرتب کردہ جوڈیشل پالیسی میں الیکشن کے انعقاد کے لیے ماتحت عدلیہ کا کردار ختم کر دیا گیا، اس پالیسی میں ججوں کی بطور وفاقی سیکرٹری قانون تعیناتی اور گورنر کی غیر موجودگی میں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کا قائم مقام گورنر بننا بھی ختم کردیا گیا۔ تاہم اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر فخرو دین جی ابراہیم کے اصرار اور بار بار کی درخواستوں پر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے 2013ء کے الیکشن میں ماتحت عدلیہ کے ارکان کو ڈی آر اوز اور آر اوزتعینات کرنے کی اجازت دے دی۔ اس کے بعد عدلیہ کے ارکان کی بطور ڈی آر اوز اور آر اوزتعیناتیاں متنازعہ بن گئیں، بعض ہارنے والے سیاستدانوں کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ ’’مسلم لیگ ن کو جتوانے کےلیے آر اوز کے الیکشن تھے ‘‘۔ اگرچہ آئین عدلیہ کے ارکان کو الیکشن کے دوران تعینات کرنے کی اجازت نہیں دیتا تاہم الیکشن ایکٹ میں یہ اجازت موجود ہے۔ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 50 کے مطابق الیکشن کمیشن کو ایک ضلع یا کسی خاص علاقہ میں ایک ریٹرننگ افسر تعینات کرناہو گا، ریٹرننگ افسر چاہے الیکشن کمیشن کا اپنا افسر ہو، صوبائی یا وفاقی حکومت کا افسر ہو یا پھر ماتحت عدلیہ کا رکن ہو، اسے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی مشاورت کے بعد آر او تعینات کیا جاسکتا ہے، ڈی آر اوز کو الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق تعیناتی کے ضلع میں انتخابات کے انعقاد سمیت کمیشن کی طرف سے تفویض کردہ ہر ذمہ داری ادا کرنا ہو گی۔ سیکشن 51 بتاتا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اپنے افسران میں سے ، صوبائی یا وفاقی حکومت میں سے ، کسی خود مختار یا نیم خود مختار ادارے میں سے یا پھر چیف جسٹس کی مشاورت کے ساتھ ماتحت عدلیہ میں سے کسی افسر کو ایک حلقہ کے لیے آر او تعینات کر نا ہوگا۔ ایک شخص کو ماسوائے ناگزیر حالات کےایک سے زیادہ حلقوں میں آر اونہیں بنایا جا سکے گا،تاہم الیکشن کمیشن اپنے ادارے میں سے ، صوبائی یا وفاقی حکومت میں سے ، کسی خود مختار یا نیم خود مختار ادارے میں سے ضرورت کے تحت ایک سے زیادہ اسسٹنٹ ریٹرنگ آفیسر زتعینات کیے جا سکتے ہیں۔ ماسوائے ضمنی انتخاب یا ناگزیر حالات کے الیکشن کمیشن آف پاکستان انتخابات کے انعقاد سے کم از کم 60 دن قبل تعیناتیاں کرے گا، کسی قسم کے ناگزیر حالات کے دوران انتخابی شیڈول جاری کرنے کے ساتھ ہی تعیناتی کی جا سکے گی۔ ایک ریٹرنگ آفیسر ہر پولنگ اسٹیشن پر ایک پریزائڈنگ آفیسر (پی او) تعینات کریگااور اس کی مدد کے لیے وہ جتنے مناسب سمجھے اسسٹنٹ پریزائڈنگ آفیسرز تعینات کر سگے گا۔کسی ایسے شخص کو پریزائڈنگ آفیسر، اسسٹنٹ پریزائڈنگ آفیسر یا پولنگ آفیسر تعینات نہیں کیا جا سکے گا جو کبھی انتخابی امیدوار رہا ہو۔ آر او کو کم از کم 30 دن قبل تعینات کردہ تمام سٹاف کی فہرست ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کو جمع کروانی ہوگی، اور ماسوائے ناگزیر حالات کے الیکشن کمیشن کی منظوری کے بغیر مذکورہ فہرست میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، سٹاف کے کسی رکن کی عدم دستیابی یا غیر حاضری کی صورت میں آر او ریزرو سٹاف میں سے کسی کو متبادل کے طور پر تعینات کر سکتا ہے تاہم اس کے لیے ڈی آر او کی منظوری لازم ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں