183

اک اورطرح کا نوحہ

مسئلہ کشمیر اور عالمی ضمیر۔یہ عالمی ضمیر کون ہے؟ کیا ہے؟ کیساہے؟ کہاں پایا جاتا ہے؟کسی نے کبھی دیکھا ہو تو میری رہنمائی فرمائے کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا، اس کا ذکر تو بہت سنا لیکن یہ کم بخت دکھائی کہیں نہیں دیا۔ ممکن ہے یہ دکھائی دینے والی شے ہی نہ ہو، خوشبو کی طرح صرف محسوس کی جانے والی کوئی شے ہو لیکن مجھے تو آج تک اس ’’عالمی گائوں‘‘ میں بارود کی بدبو کے علاوہ کبھی کچھ محسوس ہی نہیں ہوا۔

انسان اشرف المخلوقات ہے لیکن اس مخلوق کی ظلم، زیادتی، ناانصافی، قتل و غارت، استحصال کی خون میں غرق تاریخ بتاتی ہے کہ ہر انسان اشرف ِ مخلوق نہیں بلکہ اک ایسی مخلوق ہے جس میں کبھی کبھی، کہیں کہیں کچھ ’’اشرف‘‘ بھی پیدا ہوسکتے ہیں جو اپنے جیسوں کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیتے ہیں اور کوئی مخلوق ایسی نہیں جو اپنے جیسوں کی فلاح و بہبود، راحت و عافیت، عزت و سالمیت کے لئے وقت کی حدود سے بھی آگے نکل جائے، تختہ دارپر چڑھ جائے، سولی کو چوم لے، آگ میں جل کر کھل اٹھے، زندہ کھال کھنچوا لے، زہر کا پیالہ آب ِحیات سمجھ کر پی جائے، تیرو ںاور گولیوں سے چھلنی ہو جائے۔ ہر انسان اشرف

المخلوقات ہوتاتو دنیا میں کبھی کوئی کشمیر، فلسطین، میانمار کبھی نہ ہوتا۔ اس دنیا میں سب کی ضرورت کے لئے سب کچھ ہے تو دوسری طرف اس دنیا کی تمام تر نعمتیں اور وسائل کسی ایک ہوس کار کے لئے بھی کم ہیں۔ ہر انسان اشرف المخلوقات ہوتا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ دنیا بھر کے وسائل پر عملًا چند سو لوگ قابض ہوتے؟’’لیگ آف نیشنز‘‘ سے لے کر’’یونائٹیڈ نیشنز‘ ‘ تک اشرف المخلوقات ہونے کا ثبوت نہیں….. اشرف المخلوقات نظر آنے کی عالمی کوششیں ہیں ورنہ دنیاواقعی رہنے کے قابل ہوتی۔ وہ مخلوق کیسے اشرف ہوسکتی ہے جو ایٹم بموں، ہائیڈروجن بموں بلکہ ان سے بھی زیادہ بھیانک ہتھیاروں کے انباروں پر بیٹھ کر ’’عالمی ضمیر‘‘نامی شے ڈھونڈ رہی ہو۔

معاف کیجئے….. میں اپنے مردہ ضمیر کو بے گور و کفن گلتا سڑتا چھوڑ کر اس عالمی ضمیر کے پیچھے ہولیاجس کا کوئی وجود ہی نہیںحالانکہ مجھے یہ سوچنا چاہئے تھا کہ آپس میں دست و گریبان ’’پی ٹی آئی‘‘ اور ’’ن لیگ‘‘ کی مہم جُو میڈیا ٹیمیں ایک دوسرے کی کردار کشی کی بجائے بھارتی مظالم اور کشمیری مظلومیت کو بے نقاب کیوں نہیں کر رہیں؟ چند ہفتوں کےلئے اپنے اپنے سڑے سیاسی دھڑے چھوڑ کر، بھول کر، یہ جنگجو اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ مل کر سوئے ہوئے عالمی ضمیر کوبیدارکرنے کی کوشش کیوں نہیں کرسکتے؟’’میں نے پلکوں سے درِ یار پہ دستک دی ہے‘‘در کھلے نہ کھلے….. دستک تو دوہمارے بھائی اپنی آزادی کے لئے خون دے رہے ہیں تو ہم کم سے کم دستک تو دے سکتے ہیں۔’’آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے‘‘میرا رب حکومت کی حرکت میں برکت دے، دنیا بھر کے مظلوموں کو ہمت دے اور ہمیں تھوڑا سا ہوش!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں