Bhutto ka faisla tareekh kre gi by javed chaudhry

بھٹو کا فیصلہ تاریخ کرے گی

سعید مہدی ملک کے نامور بیورو کریٹ ہیں‘ یہ پوری زندگی سول سروس میں رہے‘ ملک کے کلیدی عہدوں پر کام کیا‘ 1997ء میں وزیراعظم میاں نواز شریف کے پرنسپل سیکریٹری بنے‘ بارہ اکتوبر 1999ء کو ’’دیگر مجرموں‘‘ کے ساتھ گرفتار ہوئے‘ جیلیں بھگتیں‘ مقدمے برداشت کیے اور آخر میں ریٹائر ہو گئے‘یہ اس وقت سوئی ناردرن گیس کے چیئرمین ہیں۔

یہ جنرل مشرف کے دور میں قید میں تھے تو فوجی حکومت نے انھیں دوبار وعدہ معاف گواہ بنانے کی کوشش کی لیکن مہدی صاحب نے انکار کر دیا‘ پہلی کوشش کا ہدف میاں نواز شریف تھے‘یہ1999ء کے آخر کا واقعہ ہے‘ میاں شہباز شریف‘ سیف الرحمن اور سعید مہدی راولپنڈی میں قید تھے‘ فوجی حکام آئے‘ مہدی صاحب کو بیرک سے نکالا اور تین اعلیٰ افسروں کے سامنے بٹھا دیا‘ فوجی حکومت انھیں طیارہ سازش کیس میں میاں نواز شریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنانا چاہتی تھی۔

مہدی صاحب سے کہا گیا ’’آپ نے عدالت میں صرف اتنا کہنا ہے وزیراعظم نے جب جنرل پرویز مشرف کے طیارے کا رخ بدلنے کا حکم دیا تھا تو میں وہاں موجود تھا‘‘ مہدی صاحب کو اس ایک فقرے کے عوض رہائی کی پیشکش کی گئی لیکن انھوں نے صاف انکار کر دیا‘ یہ واپس آئے تو میاں شہباز شریف نے گلے لگا کر ان کا شکریہ ادا کیا‘ سعید مہدی کو دوسری پیشکش آصف علی زرداری کے سلسلے میں کی گئی‘ یہ 2001ء میں اڈیالہ جیل میں تھے‘ میاں برادران سعودی عرب جا چکے تھے‘ آصف علی زرداری درجن بھر مقدمات میں محبوس تھے‘ یہ اسپتال سے خصوصی عدالت لائے جاتے تھے۔

فوجی حکام نے سعید مہدی کو پولو گرائونڈ کیس میں آصف علی زرداری کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنانے کی کوشش کی لیکن مہدی صاحب نے اس بار بھی صاف انکار کر دیا‘ یہ پیشکش اڈیالہ جیل میں سید نوید قمر اور ڈی آئی جی جاوید اقبال (یہ بعد ازاں پنجاب کے آئی جی بنے) کی موجودگی میں کی گئی تھی‘ یہ دونوں سعید مہدی کے انکار کے گواہ تھے‘ نوید قمر نے سعید مہدی کے انکار کی اطلاع آصف علی زرداری کو دے دی۔
آصف علی زرداری نے خصوصی عدالت میں سعید مہدی کو دیکھا تو مسکرا کر کہا ’’سعید بھائی ہم آپ کا احسان ہمیشہ یاد رکھیں گے‘ ہم اگردشمنوں کی جان لے سکتے ہیں تو ہم دوستوں کے لیے جان دے بھی سکتے ہیں‘‘ یہ فقرہ آصف علی زرداری اور سعید مہدی کے درمیان تعلقات کا ذریعہ بن گیا‘آصف علی زرداری سے سیف الرحمن کی ملاقات کا بندوبست بھی سعید مہدی نے کیا تھا‘ یہ وہ مشہور زمانہ ملاقات ہے جس میں سیف الرحمن نے آصف علی زرداری سے معذرت کی تھی‘ یہ ملاقات بھی راولپنڈی کی خصوصی عدالت میں ہوئی تھی‘ سعید مہدی سیف الرحمن کو زرداری صاحب کے پاس لے گئے۔

سیف الرحمن نے ملاقات کے دوران اپنے مخصوص انداز میں ہاتھ ملتے ہوئے کہا ’’آصف بھائی میرا کوئی قصور نہیں تھا‘ وزیراعظم جو کہتے تھے میں کر دیتا تھا‘‘ آصف علی زرداری نے جواب دیا تھا ’’میں نے میاں نواز شریف کو معاف کر دیا‘ اللہ نے اس سے اتنا انتقام لے لیا جتنا میں بھی نہیں لے سکتاتھا لیکن میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا‘ تم نے مجھ پر منشیات کا مقدمہ بھی بنا دیا تھا‘ تم یاد رکھو‘ میں جس طرح دوستوں کے لیے جان دے سکتا ہوں میں اسی طرح دشمنوں کی جان لے بھی سکتا ہوں‘‘ یوں یہ ملاقات بے نتیجہ ثابت ہوئی‘ پاکستان پیپلز پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار اکثر اس ملاقات کے حوالے دیتے ہیں‘ آصف علی زرداری نے بھی پچھلے دنوں حامد میر کے انٹرویو میں اس معافی کا ذکر کیا۔

سعید مہدی نے دو مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کی‘ یہ دونوں ملاقاتیں بہت اہم اور تاریخی ہیں‘ میں آج چار اپریل کے دن ان دونوں ملاقاتوں کو تاریخ کا حصہ بنانا چاہتا ہوں‘ میں یہ دونوں واقعات سعید مہدی صاحب سے کنفرم کر چکا ہوں‘ یہ ماشاء اللہ حیات بھی ہیں اور توانا بھی‘ آپ تصدیق کے لیے ان سے رابطہ کر سکتے ہیں‘ جنرل ضیاء الحق نے 5 جولائی 1977ء کی رات مارشل لاء لگا دیا‘ فوج نے ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کیا اور گورنر ہائوس مری میں محبوس کر دیا‘ حکومت ختم ہو گئی‘ کابینہ ٹوٹ گئی اور اسمبلیاں برخواست ہو گئیں۔

بھٹو صاحب 23 دن فوج کی حراست میں رہے‘ فوج نے انھیں 28 جولائی کو رہا کر دیا‘ بھٹو صاحب نے رہا ہوتے ہی فوجی حکومت کے خلاف احتجاجی مہم شروع کر دی‘ یہ اگست میں لاہور میں بھرپورجلسے کے بعد راولپنڈی آ گئے‘ اسلام آباد اس وقت راولپنڈی ڈسٹرکٹ کا حصہ ہوتا تھا‘ وفاقی دارالحکومت کے انتظامی معاملات راولپنڈی کا ڈپٹی کمشنر دیکھتا تھا‘ سعید مہدی اس وقت راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ بھٹو صاحب راولپنڈی آئے اور پیر صاحب مکھنڈ شریف کی رہائش گاہ میں ڈیرے ڈال لیے‘ بھٹو صاحب جیسے لیڈر کو ہینڈل کرنا آسان نہیں تھا چنانچہ انتظامیہ مشکل میں پھنس گئی‘ یہ لوگ بھٹو صاحب پر نظریں جما کر بیٹھ گئے۔

ڈپٹی کمشنر کو ایک دن اطلاع ملی بھٹو صاحب پیر آف مکھنڈ شریف کی رہائش گاہ سے باہر آ گئے ہیں‘ انتظامیہ پریشان ہو گئی‘ ان کا خیال تھا بھٹو اگر راجہ بازار یا لیاقت باغ چلے گئے تو ہزاروں لوگ جمع ہو جائیں گے‘ ڈپٹی کمشنر نے پولیس کو الرٹ کر دیا‘ وائرلیس پر اطلاع ملی بھٹو صاحب کی گاڑی ائیر پورٹ کی طرف مڑ گئی ہے‘ سعید مہدی نے اطمینان کا سانس لیا‘ ان کا خیال تھا یہ فلائیٹ لے کر لاہور یا کراچی چلے جائیں گے اور یوں ان کی جان چھوٹ جائے گی لیکن ان کا یہ اطمینان دیرپا ثابت نہ ہوا‘ پھر وائر لیس پر اطلاع ملی بھٹو صاحب آرمی چیف ہاؤس کی طرف مڑ گئے ہیں‘ آخر میں اطلاع آئی‘ بھٹو صاحب آرمی چیف ہائوس کے گیٹ پر پہنچ گئے ہیں۔

یہ جنرل ضیاء الحق سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں‘ جنرل ضیاء الحق اس وقت جی ایچ کیو میں تھے‘ انھیں اطلاع دی گئی‘ جنرل ضیاء نے بھٹو کو ڈرائنگ روم میں بٹھانے کا حکم دیا اور دفتر سے گھر آ گئے‘ سعید مہدی کو بھی تھوڑی دیر بعدآرمی چیف ہائوس طلب کر لیا گیا‘ یہ بھاگتے ہوئے پہنچے‘ اندر گئے تو اندر عجیب منظر تھا‘ بھٹو صاحب سنگل صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھے تھے اور جنرل ضیاء الحق چہرے پر مسکینی سجا کر سامنے تشریف فرما تھے۔

جنرل ضیاء الحق نے سعید مہدی کو دیکھتے ہی بھٹو صاحب کی طرف اشارہ کیا اور کہا ’’مسٹر ڈپٹی کمشنر کیا آپ انھیں جانتے ہیں‘‘ مہدی صاحب نے عرض کیا ’’جی سر یہ ہمارے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ہیں‘‘ یہ سن کر جنرل ضیاء تڑپ کر بولے ’’نہیں‘ نہیں سابق نہیں‘ یہ 90 دن بعد دوبارہ ملک کے وزیراعظم ہوں گے‘ آپ انھیں تنگ کرنا بند کردیں‘ یہ آزاد ہیں‘ یہ جہاں جانا چاہیں‘ یہ جائیں‘ یہ جو کرنا چاہیں کریں‘ آپ انھیں نہیں روکیں گے‘‘مہدی صاحب نے اوکے کہا‘ سلام کیا اور باہر آ گئے‘ تھوڑی دیر بعد بھٹو صاحب اور جنرل ضیاء الحق دونوں باہر آگئے۔

جنرل ضیاء الحق نے بھٹو صاحب کی گاڑی کا دروازہ کھولا‘ بھٹو صاحب گاڑی میں بیٹھے‘ جنرل ضیاء نے دروازہ بند کیا‘ اسمارٹ سا سیلوٹ کیا اور بھٹو روانہ ہو گئے‘ سعید مہدی نے بھٹو کی رخصتی کے بعد جنرل ضیاء سے پوچھا ’’سر ہمارے لیے کیا حکم ہے‘‘ جنرل ضیاء نے کہا ’’ڈی سی صاحب یہ پنجاب حکومت کا ایشو ہے‘ آپ پنجاب حکومت کے احکامات پر عمل کریں‘میں وفاق دیکھ رہا ہوں‘ میرااس معاملے میں کوئی عمل دخل نہیں‘‘ سعید مہدی جنرل ضیاء کے رویئے کی اس تبدیلی پر حیران رہ گئے۔

سعید مہدی کی بھٹو صاحب سے دوسری ملاقات راولپنڈی جیل میں ہوئی‘ مسعود نبی نور چیف سیکریٹری اور ایف آئی ملک کمشنر تھے‘ سعید مہدی ان دونوں کے حکم پر بھٹو صاحب کو رحم کی اپیل کے لیے رضا مند کرنے جیل گئے‘ بھٹو صاحب اپنے سیل میں بیٹھے تھے‘ ڈی سی نے ان سے عرض کیا ’’سر آج رحم کی اپیل کا آخری دن ہے‘ آپ کل یہ اپیل نہیں کر سکیں گے‘‘۔

بھٹو صاحب نے مہدی صاحب کی طرف دیکھا اور پوچھا ’’میرا نام کیا ہے‘‘ مہدی صاحب نے جواب دیا ’’سر آپ ذوالفقار علی بھٹو ہیں‘‘ بھٹو صاحب نے پوچھا ’’اور میرے والد کا کیا نام تھا‘‘ مہدی صاحب نے جواب دیا ’’سر ان کا نام سر شاہ نواز بھٹو تھا‘‘ بھٹو نے کہا’’ اور قابض جنرل کا کیا نام ہے‘‘ مہدی صاحب نے جواب دیا ’’جنرل ضیاء الحق‘‘ بھٹو صاحب بولے ’’ تم اب اس قابض جنرل کے والد کا نام بتائو‘‘ مہدی صاحب نے ادب سے عرض کیا ’’سر میں نہیں جانتا‘‘ بھٹو صاحب نے قہقہہ لگایا اور بولے ’’ اور تم یہ چاہتے ہو سر شاہ نواز بھٹو کا بیٹا ذوالفقار علی بھٹو کسی نامعلوم مولوی حق کے قابض بیٹے جنرل ضیاء الحق سے زندگی کی بھیک مانگے‘‘۔

سعید مہدی خاموش رہے‘ بھٹو صاحب بولے ’’ مسٹر ڈپٹی کمشنر میں اس شخص کو اپیل کا مزہ نہیں لینے دوں گا‘ میں اسے اور خود کو تاریخ پر چھوڑتا ہوں‘ بھٹو کا فیصلہ تاریخ کرے گی‘‘۔سعید مہدی مایوس ہو کر واپس آ گئے‘ ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979ء کو رات دو بج کر چار منٹ پر راولپنڈی میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا‘ جنرل ضیاء الحق اگلی صبح روٹین کے مطابق دفتر کے لیے نکلے‘ جیل کے قریب پہنچ کر گاڑی رکوائی‘ فاتحہ پڑھی اور دفتر روانہ ہو گئے‘ جنرل ضیاء الحق کی فاتحہ سے قبل حکومت کا کوئی کارندہ نہیں جانتا تھا بھٹو صاحب دنیا میں نہیں رہے۔

Source : express.pk

Comments

comments

Shares