45

غریب خواتین کی ریڑھ کی ہڈی سے نکالے گئے پانی اور دیگر مواد کو جب پنجاب پنجاب فرنزک سائنس لیب لاہور بھجوایا گیا تو وہاں سے کیا رپورٹ آئی؟ حیرت انگیز تفصیلات منظر عام پر

حافظ آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)غریب خواتین کو جھانسہ دے کر ان کی ریڑھ کی ہڈی سے پانی اور دیگر مواد نکالنے والے ملزمان کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ۔ملزمان کے خلاف درج مقدمات کی تعداد سات ہو گئی۔ مقدمات میں دہشت گردی، اقدام قتل سمیت دیگر دفعات شامل ہیں۔تفصیلات کے مطابق حافظ آباد میں جہیز فنڈز اور مالی امداد کا جھانسہ دیکر غریب خواتین کی ریڈھ کی ہڈی سے پانی اور دیگر موادنکالنے والے ملزمان سے تفتیش کا عمل جا ری ہے ،گروہ کے ظلم کا شکاایک اور خاتون کی درخواست پر پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا جس کے بعد ملزمان کے خلاف درج مقدمات کی تعداد 7ہو گئی۔درج مقدمات میں ATA6/7، 324، 420، 170،171دفعات شامل ہیں۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈاکٹر سردار غیاث گل کا کہنا ہے کہ ملزمان سے بر آمد ہونے والے بلڈ اور دیگرمواد کو پنجاب پنجاب فرنزک سائنس لیب لاہور بھجوایا گیا اور وہاں سے موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق خون کے علاوہ کسی ایسے مواد کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر محکمہ صحت پنجاب کی خصوصی ٹیموں نے بھی ڈی ایچ کیو ہسپتال کا ہسپتال کا دورہ کیا اور وہاں سے متاثرہ خواتین کے میڈیکل رپورٹس کے مطابق اس واقعہ کی تحقیقات کیں۔گروہ کے مرکزی ملزم ندیم نے میڈیا کو بتایا کہ اس کام میں ڈی ایچ کیو ہسپتال کا سینٹری ورکر ساجد اس کا ساتھی ہے اور پندرہ خواتین کے نمونہ جات کے عوض اُسے چالیس ہزار روپے طے ہوئے تھے۔

دوسری جانب ڈی ایچ کیو ہسپتال کے میڈیکل سپرٹینڈنٹ ڈاکٹر ریحان اظہر کا کہنا ہے کہ خواتین کا بون میرو نکالا گیا اور نہ ہی ریڑھ کی ہڈی سے کسی قسم کا کوئی مواد حاصل کیا گیا ہے۔اُن کا کہنا ہے کہ ساجد مسیح ڈی ایچ کیو ہسپتال کا مستقل ملازم نہیں ہے بلکہ ہسپتال کی صفائی ستھرائی کا کام کرنے والی پرائیویٹ کمپنی (ہیلو ٹیک) کا ملازم ہے۔پولیس کی جانب سے ہونے والی تفتیش کے مطابق ملزمان نے خواتین کو وزیر اعظم جہیز فنڈاور مالی امداد کا جھانسہ دیالیکن ابھی تک کسی بھی ذرائع سے بون میرو یا کوئی اور جسمانی مادہ نکالنے کے کہیں سے بھی شواہد نہیں ملے۔ تاہم اس سلسلہ میں مقامی پولیس کے افسران ہر لحاظ سے اس واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔دوسری جانب آر پی او شیخوپورہ ذوالفقار حمید کی سربراہی میں فیکٹ اینڈ فائنڈنگ کمیٹی بھی قائم کی گئی جو اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کرے گی۔کمیٹی کے رُکن ایس ایس پی رینج کرائمز الطاف گوندل نے گذشتہ روز حافظ آباد کا دورہ کیاتھا جہاں اُنہوں نے متاثرہ خواتین کے بیانات ریکارڈ کیے اور پولیس ، ڈاکٹروں سے رپورٹ بھی حاصل کی۔تین ملزمان ندیم، عرفان اور اسلم کا انسداد دہشت گردی عدالت(گوجرانوالہ)نے گیارہ روزہ جسمانی ریمانڈبھی دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں