30

اقامہ، بنیادی ڈھانچہ اور آرٹیکل 62(1)(f)

میاں صاحب پارٹی کے صدر بھی نہ رہے۔ سپریم کورٹ کے مختصر فیصلےکا لب لباب یہ ہے کہ جو صادق اور امین نہیں وہ وزیراعظم یا ممبر اسمبلی تو کیا پارٹی کا سربراہ بھی نہیں بن سکتا۔ لہٰذا پاناما فیصلے کے بعد میاں صاحب نے اقامہ کو چھپا کر جو حلف دیتے ہوئے اپنے اثاثے ڈکلیئر کیے تھے وہ جھوٹ بولنے کے مترادف ہے اور اس طرح وہ نااہل قرار پائے۔

اس کے بعد جو People Representation Act میں سادہ اکثریت سے دونوں ایوانوں نے ترمیم کر کے یہ شق نکال دی تھی یا ڈالی تھی کہ نااہل شخص پارٹی کا سربراہ بن سکتا ہے، میاں صاحب نے جو پارٹی صدارت چھوڑ دی تھی وہ اس پر دوبارہ منتخب ہوئے۔ وہ ترمیم آئین کے آرٹیکل 62 سے ٹکراؤ میں ہے، لہٰذا جو قانون آئین سے ٹکراؤ میں ہے وہ غیر قانونی ہو جائے گا۔ اور اس طرح پھر الیکشن کمیشن نے بھی ایک دم اس تناظر میں فرمان جاری کردیا کہ مسلم لیگ 45 دنوں میں اپنا نیا سربراہ منتخب کرے۔ میاں صاحب کے اس وقت سے کیے گئے تمام فیصلے بھی کالعدم ہوئے ہیں، فعال نہ رہے۔

اس طرح کی صورتحال 1999ء میں پیدا ہوئی تھی جب سادہ اکثریت والی قانون سازی کرتے ہوئے Anti Terrorism Act  پاس کرتے ہوئے ملٹری کورٹس بنائی گئی تھیں۔ ایسی قانون سازی سپریم کورٹ میں چیلینج ہوئی، اس گراؤنڈ پر کہ یہ آئین کے بنیادی ڈھانچے سے ٹکراؤ میں ہیں، وہ اس لیے کہ بنیادی حقوق اس سے مجروح ہوتے ہیں اور ایسا کوئی بھی قانون نہیں لایا جاسکتا جو آئین سے ٹکراؤ میں ہو۔ سپریم کورٹ نے اس وقت یہ کہا تھا کہ ملٹری کورٹس کے لیے پہلے آئین میں ترمیم کی جائے پھر قانون لایا جائے۔

اور پھر جب 2015ء میں آئین میں ترمیم کر کے قانون سازی کی گئی، ترمیم کو چیلینج کیا گیا ہے اس گراؤنڈ پر کہ ہمارے آئین کا  بنیادی ڈھانچہ منظم ہے اور اس لیے پارلیمنٹ سپریم نہیں۔ جب پارلیمنٹ سپریم نہیں تو پھر پارلیمنٹ آئین میں اس حد تک ترمیم نہیں کر سکتی جس سے آئین کا بنیادی ڈھانچہ مجروح ہو۔ اور اس طرح آئین میں کی گئی 21 ویں ترمیم آرٹیکل 184(3) کے تحت سپریم کورٹ کی Original Jurisdiction  میں چیلنج ہوئی اور پھر فل بینچ نے یہ کیس سنا۔

ہماری سپریم کورٹ نے پاکستان کی تاریخ کا Seminal  فیصلہ دیا اور اکثریت نے یہ کہا کہ پاکستان کے آئین کا بنیادی ڈھانچہ موجود ہے (جس سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناصر الملک جو اس بینچ کے سربراہ بھی تھے ، متفق نہ ہوئے) اکثریت نے یہ کہا کے بنیادی ڈھانچہ ہے، یہ اکثریت بھی تقسیم ہوئی، اس بات پرکہ ایک سال کے لیے ملٹری کورٹس کی اجازت دی جاسکتی ہے اور دوسری اکثریتی رائے یہ بنی کہ ہمارے آئین کا  بنیادی ڈھانچہ ہے۔

اب آتے ہیں کہ آرٹیکل 62 (1)(f) کیا ہے؟ یہ آرٹیکل جنرل ضیاء الحق نے متعارف کروایا تھا اور اس کی ماہیت بھی قصاص اور دیت کے قانون جیسی ہے، یعنی اس کے دو معنی نکلتے ہیں۔ یہ آرٹیکل بھی مبہم اور Subjective ہے اور یہ آرٹیکل بھی Article 2A  کے طرح صحیح Test  نہیں پیدا کرسکتا۔ ہمارے آئین میں ایک 58(2)(b) کی شق ہوا کرتی تھی جس کو جسٹس نسیم حسن شاہ کے بینچ میں ایک Test کا معیار بنا کر بہت ہی محدود کر دیا گیا اور اٹھارویں ترمیم میں اس کو ختم کردیا گیا۔ نہ ختم کیا گیا اٹھارویں ترمیم میں اگر کسی آرٹیکل کو، تووہ تھا آرٹیکل 62 (1)(f)۔

رضا ربانی نے مسلم لیگ کی نمایندگی کرنے والی کمیٹی کے لوگوں کو کہا کہ آئیے اس کو ختم کریں، مگر وہ نہ مانے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میاں صاحب کے ووٹ بینک میں ایسے افراد تھے یا ان کے Narrative  اسلامی قوانین کے حق میں تھے یا پھر یوں کہیے کہ وہ ضیاء الحق کی ڈالی ہوئی ایسی ترامیم کو ختم نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس ترمیم کو ختم کرنے کا استحقاق پارلیمان کا ہے نہ کہ کورٹ کا۔ مگر کیا یہ ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے سے ٹکراؤ میں ہے؟ اور اگر ہے تو اس طرح سپریم کورٹ کی جیورسڈکشن میں یہ بات آتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آرٹیکل 58(2)(b) آئین کے بنیادی ڈھانچے سے ٹکراؤ میں نہیں تھا۔ وہ ٹکراؤ میں تھا، کورٹ نے اس کو ختم نہیں کیا لیکن اس کے استعمال کو محدود ضرور کردیا۔ جسٹس فضل کریم اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ آرٹیکل 62 (1)(f) کے بارے میں بھی سپریم کورٹ کے جج صاحبان کی ایک متفقہ رائے ہے کہ اس آرٹیکل کے استعمال کو بھی محدود کیا جائے۔

ایک بات یہ بھی ہے کہ آرٹیکل 62 (1)(f) کا اطلاق صرف ممبران اسمبلی و پارلیمان و صوبائی اسمبلی پر ہوتا ہے، عام آدمی پر نہیں۔ آپ نے جو حلفیہ بیان دے کر اپنے اثاثے بتائے، آپ کے اثاثے اس سے زیادہ ہیں تو اس طرح آرٹیکل 62 (1)(f) کا اطلاق ہوتا ہے۔ اب اقامہ کیا ہے۔ آیا وہ Asset  ہے کہ نہیں، Income  ہے کہ نہیں، مگر یہ بات سچ ہے کہ وہ Permit  یا ایک لحاظ سے Residential ضرور ہے۔ مگر سپریم کورٹ نے اس کی تشریح ایک Asset کی حیثیت میں کی ہے، کیوں کہ اس سے ایک مخصوص رقم آپ کے اکاؤنٹ میں انکم کے طور پر کمپنی بھیجتی تھی۔ میاں صاحب وزیراعظم بھی تھے اور دبئی میں اپنے بیٹے کی کمپنی میں ملازم بھی تھے اور وہ ملازمت کا معاوضہ بھی لیتے تھے۔

جب پاناما اسکینڈل نے پوری دنیا میںتہلکہ مچایا تو مہذب ممالک کے وزرائے اعظم نے استعفیٰ دے دیا۔ کیا ہمارے وزیراعظم نے استعفیٰ دیا؟ جب کہ ان کا اور ان کے خاندان کا نام بھی پاناما اسکینڈل میں آیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری ریاست، ہمارا آئین اور ہماری جمہوریت ابھی اتنی مہذب نہیں ہوئی۔ جمہوریت کا جو یہ حال ہے وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔ یہاں پر آئین کی تشریح کا جو حال ہے وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔ ہندوستان نے کیشونندا کیس کے ذریعے 1973 ء میں اپنے آئین کے بنیادی ڈھانچے کو واضح کردیا تھا، اور ہمارے پاس اب بھی نظریہ ضرورت کی تلوار لٹک رہی ہے، اگر بنیادی ڈھانچے کو واضح کر بھی دیا جائے تو وہ اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔

میاں صاحب تو ابھی تک اسی بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ پارلیمنٹ سپریم ہے۔ پارلیمنٹ کا سپریم ہونا برطانیہ کے آئین کا حصہ ہے اور برطانیہ کا آئین Unwritten  ہے، جب کہ ہمارا آئین written  ہے۔ ہندوستان ہو یا امریکا یا دنیا کے دوسرے مہذب ممالک سب کے آئین written  ہیں اور اس طرح ان کے آئین کا بنیادی ڈھانچہ موجود ہے۔

یہ بحث بہت طویل ہوسکتی ہے مگر یہ کہہ کر میں اس بات کو یہاں ختم کرتا ہوں کہ آرٹیکل 62 (1)(f) ہمارے آئین کے بنیادی ڈھانچے سے ٹکراؤ میں ہے۔ جب NAB  جیسا ادارہ موجود ہے اور کوئی بھی ایسی حقیقت جو Point of fact  ہے، سپریم کورٹ کے لیے بہتر ہے کہ ایسےPoint of fact  کو ٹرائل کورٹ کے حوالے کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں