61

اقوام متحدہ نے شام میں 30 روزہ جنگ بندی کی قرارداد منظور کر لی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے جس میں شام میں 30 روزہ جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔پندرہ ارکان پر مشتمل کونسل نے امداد کی ترسیل اور طبی بنیادوں پر انخلا کی اجازت دینے کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ قرارداد شامی حکومت کے فوجی دستوں اور فضائیہ کی جانب سے باغیوں کے زیر قبضہ شہر مشرقی غوطہ پر مسلسل ایک ہفتہ بمباری کے تناظر میں پیش کی گئی تھی تاہم ووٹنگ کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا تھا کہ فضائی بمباری مسلسل جاری ہے۔

اس معاملے پر ووٹنگ جمعرات کے بعد سے کئی مرتبہ تاخیر کا شکار ہو چکی ہے کیونکہ ارکان کسی معاہدے پر نہیں پہنچ پا رہے تھے۔ شام کا سب سے بڑا اتحادی ملک روس اس قرارداد میں تبدیلی چاہتا تھا، جبکہ مغربی ممالک نے روس پر وقت ضائع کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ بندی پر فوراً عمل کیا جائے لیکن ساتھ میں انھیں جنگ بندی کے حوالے سے شام پر شک بھی ہے۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ سنیچر کو اس قرارداد کے منظور ہونے کے چند منٹ بعد ہی مشرقی غوطہ پر فضائی بمباری کی گئی۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کے فوجی دستوں اور فضائیہ نے باغیوں کے زیر قبضہ شہر مشرقی غوطہ پر مسلسل ایک ہفتہ بمباری کی ہے جس میں اب تک پانچ سو عام شہری مارے جا چکے ہیں۔ سیرین آبزرویٹری گروپ کا کہنا ہے کہ مشرقی غوطہ میں مرنے والوں میں 121 بچے شامل ہیں۔ روسی افواج کی مدد سے شامی حکومت کی فورسز نے اٹھارہ فروری کو بمباری شروع کی تھی۔

اس قرار داد میں کیا ہے؟

کویت اور سویڈن کی جانب سے پیش کیے جانے والے مسودے میں اس قرارداد کے منظور کیے جانے کے 72 گھنٹوں بعد 30 دن کے لیے ملک بھر میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے 48 گھنٹوں بعد طبی بنیادوں پر انخلا اور امدادی سامان کی ترسیل کا آغاز کیا جائے گا۔ مسودے کے مطابق پانچ عشاریہ چھ ملین لوگوں کو امداد کی شدید ضرورت ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ اس نے قرارداد کے مسودے میں چند تبدیلیاں کی تھیں لیکن سویڈن کے اقوام متحدہ میں سفیر اولاف سکوگ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مشرقی غوطہ میں امداد پہنچانا سب سے بنیادی مقصد ہے۔

مشرقی غوطہ میں صورتحال کتنی بری ہے؟

سنیچر کو سیرین آبزرویٹری گروپ نے کہا ہے کہ کم از کم 20 شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے 17 کا تعلق دوما کے علاقے سے ہے۔ جس کے بعد ایک ہفتے کے اندر مرنے والوں کی تعداد 500 تک پہنچ گئی ہے۔ سیرین آبزرویٹری گروپ کا کہنا ہے کہ بمباری شام اور روسی جیٹ طیارے کررہے ہیں تاہم روس تنازعے میں براہ راہست شمولیت سے انکار کرہا ہے۔

اب تک فائر بندی کیوں نہیں ممکن ہوسکی؟

روس نے شام میں حکومت کی جانب سے باغیوں کے علاقے پر بمباری پر بڑھتے ہوئے غصے پر اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی قرارداد میں تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم مغربی سفارتکاروں نے روس پر سلامتی کونسل کا وقت ضائع کرنے کا الزام لگایا تھا۔ فرانس نے کہا کہ عمل کرنے میں ناکامی سے خود اقوام متحدہ کا اختتام ہو جائے گا۔ مغربی طاقتوں کے خیال میں روس اپنے اتحادی کو اتنا وقت دینا چاہتا ہے کہ وہ باغیوں کے ساتھ ایک آخری بڑی ڈیل طے کر لے۔ دوسری جانب امریکہ، برطانیہ اور فرانس بنا کسی تاخیر کے بغیر اس قرارداد کو منظور کرانا چاہتے ہیں۔

باغی کون ہیں؟

مشرقی غوطہ میں موجود باغیوں کا تعلق کسی ایک گروہ سے نہیں۔ بلکہ یہ کئی چھوٹے گروہ ہیں جن میں جہادی بھی شامل ہیں۔یہ گروہ آپس میں بھی لڑ رہے ہیں اوراس کا فائدہ شامی حکومت کو ہوا ہے۔ علاقے میں سب سے بڑا گروہ جیش الاسلام اور اس کا حریف گروہ فیلک الرحمان ہے۔ فیلک الرحمان ماضی میں جہادی گروہ حیات الشام کے ساتھ لڑتا رہا ہے جو کہ النصرہ فرنٹ کا ایک دھڑا ہے۔

Source: BBC Urdu

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں