44

شمالی کوریا سے مذاکرات جوہری پروگرام سے مشروط: امریکہ

امریکہ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا حتمی مقصد جوہری پروگرام کی بندش ہونا چاہیے۔ جنوبی کوریا کے مطابق پیونگچینگ میں ہونے والے سرمائی اولمپکس کے اختتامی روز شمالی کوریا نے اس جانب اشارہ کیا کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ اس قبل شمالی کوریا یہ کہہ چکا ہے کہ وہ کسی قسم کی بھی پیشگی شرائط کو تسلیم نہیں کرے گا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ ’ہم یہ دیکھیں گے کہ شمالی کوریا کا پیغام کہ وہ مذاکرات کا خواہش مند ہے جوہری تھیاروں کی تلفی کی جانب پہلا قدم ہے۔‘ شمالی کوریا کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے رضامندی کی خبریں اتوار کے روز سرمائی اولمپکس کی اختتامی تقریب سے قبل جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے حکام کے درمیان ملاقات کے بعد سامنے آئی۔ خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایونکا ٹرمپ بھی اس اختتامی تقریب میں شریک ہوئیں لیکن ان کی کسی بھی شمالی کوریائی عہدیدار سے ملاقات نہیں ہوئی ، حتکہ وہ اولمپک سٹیڈیم میں شمالی کوریا کے ایلچی جنرل کم یونگ چول سے چند قدم کے فاصلے پر ہی بیٹھی تھیں۔

جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان کے دفتر کا کہنا ہے کہ ’شمالی کوریا امریکہ سے مذاکرات کے لیے بہت حد تک رضامند ہے۔‘ ان کا مزید کہنا ہے کہ ’بین الاکوریائی مذاکرات اور شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان تعلقات ایک ساتھ بہتر ہونے چاہیے۔‘ جنوبی کوریا کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چند گھنٹے قبل ہی شمالی کوریا کی طرف سے ایک بیان جاری ہوا تھا جس میں اس نے امریکہ کی جانب سے تازہ پابندیوں کو ’جنگی عمل‘ قرار دیا تھا۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ شمالی کوریا کے خلاف نئی اقتصادی پابندیاں لگانے لگا ہے جو کہ تاریخ کی ‘سب سے بڑی پابندیاں’ ہیں۔ مجوزہ پابندیوں میں شمالی کوریا کے 50 بحری جہازوں اور بحری ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جن میں سے کچھ چین اور تائیوان میں بھی کام کرتی ہیں۔ شمالی کوریا کے خلاف اس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے پہلے ہی متعدد امریکی اور عالمی اقتصادی پابندیاں لگائی جا چکی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں