54

کوئٹہ میں دو حملوں میں چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور اس کے نواحی علاقے میں خودکش حملوں سمیت دو مختلف واقعات میں کم از کم چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے اہلکاروں میں چار کا تعلق فرنٹیئر کور اور دو کا تعلق پولیس سے تھا۔ فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کو کوئٹہ شہر کے مغرب میں نوحصار کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا ۔ ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ نوحصار کے علاقے میں ایف سی اور لیویز فورس کا ایک عارضی کیمپ تھا۔

اہلکار کے مطابق بدھ کی شب اس علاقے میں خود کش حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں ایف سی کے چار اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

اس سے قبل شہباز ٹاؤن کے علاقے میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں پولیس کے ڈی ایس پی پراسیکوشن حمیداللہ دستی کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عبد الرزاق چیمہ نے جائے وقوعہ پر میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ حمید دستی اپنے گھر سے ہائیکورٹ کی جانب جارہے تھے۔ جب ان کی گاڑی شہباز ٹاؤن کے علاقے میں پہنچی تو تین مسلح افراد نے گاڑی پر حملہ کیا۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ اس حملے میں ڈی ایس پی محفوظ رہے تاہم ان کی گاڑی کے پچھلے حصے میں سوار دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔ ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ دونوں اہلکاروں کی ہلاکت سر میں گولیاں لگنے کی وجہ سے ہوئی۔

دو ہفتوں کے دوران کوئٹہ شہر میں سیکورٹی اہلکاروں پر یہ دو دوسرا حملہ تھا۔ اس سے قبل ریلوے اسٹیشن کے قریب ریلوے لائن کی نگرانی پر مامور ایف سی اہلکاروں پر ہونے والے حملے میں چار اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ کوئٹہ شہر میں ایف سی اور دیگر سیکورٹی اہلکاروں پر رواں سال کے دوران اب تک نو حملے ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں پولیس، ایف سی اور لیویز فورس کے 20 سے اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں