148

مسکین موتہ کے میدان میں

موتہ کا میدان اردن کے درمیان میں آتا ہے‘ یہ مقام اسلامی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے‘ نبی اکرمؐ نے 8 ہجری میں اپنے صحابی حضرت حارث بن عمیرازدیؓ کو شام کے شہر بصریٰ کے بادشاہ کے پاس بھیجا‘ بصریٰ کے حاکم نے حضرت حارث بن عمیرؓ کو شہید کر دیا‘ یہ نبی اکرم ؐ کے واحد ایلچی ہیں جنہیں شہید کیا گیا‘ یہ خبر جب مدینہ منورہ پہنچی تو نبی اکرمؐ نے بصریٰ کے حاکم سے جنگ کا فیصلہ کیا‘ آپؐ نے تین ہزار مجاہدین کا لشکر

تیار کیا اور فرمایا‘ قیادت حضرت زید بن حارثہؓ کریں گے‘ یہ شہید ہو گئے تو پرچم حضرت جعفر طیارؓ بن ابی طالب اٹھائیں گے‘ یہ بھی شہید ہو گئے تو حضرت عبداللہ بن رواحہؓ قیادت فرمائیں

گے اور اگر یہ بھی شہید ہو گئے تو لشکر اپنے قائد کا فیصلہ خود کر لے‘ نبی اکرمؐ نے اس لشکر سے قبل ایک کے بعد دوسرے اور دوسرے کے بعد تیسرے سپہ سالار کا تعین نہیں فرمایا تھا چنانچہ تینوں سپہ سالاروں کو یقین تھا ہم واپس نہیں آئیں گے‘ ہم شام میں شہید ہو جائیں گے‘ لشکر روانہ ہوا‘ مجاہدین854کلو میٹر کا سفر طے کر کے معان (یہ شہر آج بھی موجود ہے) پہنچے تو روم کا بادشاہ ہرقل دو لاکھ فوجیوں کا لشکر لے کر خود شام پہنچ گیا‘ یہ صورتحال مسلمانوں کیلئے غیر متوقع تھی‘ فیصلہ ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تازہ ترین حالات سے مطلع کر کے رہنمائی لی جائے لیکن پھر حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے تقریر فرمائی اور کہا ”دو سعادتوں میں سے ایک سعادت ضرور ہمارا مقدر بنے گی‘ ہم دشمن پر غالب آئیں گے یا پھر شہید ہو جائیں گے‘ بس آگے بڑھو“ لشکر اسلام آگے بڑھا‘ موتہ کے میدان میں جنگ ہوئی‘ پہلے حضرت زید بن حارثہؓ شہید ہوئے‘ نبی اکرمؐ کے فرمان کے بعد حضرت جعفر طیارؓ نے لشکر کی قیادت فرمائی‘ وہ بھی شہید ہو گئے تو حضرت عبداللہ بن رواحہؓ آگے بڑھے‘ وہ بھی شہید ہو گئے تو لشکر نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو اپنا سپہ سالار بنا لیا‘ حضرت خالد بن ولیدؓ نے موتہ کے میدان میں بے جگری کی تاریخ رقم

کر دی‘ آپؓ کی نو تلواریں ٹوٹیں‘ یہ وہ جنگ تھی جس میں نبی اکرمؐ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو سیف اللہ کا لقب عنایت کیا تھا‘ حضرت خالد بن ولیدؓ یہ جنگ نہیں جیت سکے تاہم آپؓ نے رومیوں کے دل میں مسلمانوں کی دھاک بھی بٹھا دی اور آپؓ لشکر کو بحفاظت واپس مدینہ بھی لے آئے‘ جنگ موتہ شام پر مسلمانوں کا پہلا حملہ تھا‘ شام میں اس کے بعد حضرت عمرفاروقؓ کے دور میں اسلام کا پرچم طلوع ہو گیا۔ہم ہفتے کی دوپہر طفیلہ میں حضرت حارث بن عمیرؓ کے مزار پر حاضر ہوئے‘ آپ نبی اکرمؐ کے ایلچی تھے‘

آپؓ کی شہادت جنگ موتہ کا باعث بنی تھی‘ آپؓ کا مزار بدوؤں کے علاقے میں ہے‘دور دور تک صحرائی اور پہاڑی گاؤں بکھرے ہوئے ہیں‘ مزار کے ساتھ خوبصورت مسجد ہے‘ ہم نے مزار پر حاضری دی‘ ایلچی رسولؐ سے اپنی درخواست رسول اللہ ﷺ تک پہنچانے کی درخواست کی اور موتہ کی طرف روانہ ہو گئے‘ راستے میں کرک کا مشہور شہر آیا‘ یہ شہر سلطان صلاح الدین ایوبی اور حضرت نوحؑ کی وجہ سے مشہور ہے‘ سلطان نے صلیبی جنگوں کے دوران یہاں بہت بڑا قلعہ بنایا تھا‘

یہ قلعہ آج تک قائم ہے‘ کر ک کے مضافات میں حضرت نوحؑ کا مزار بھی ہے اور ایک دیو ہیکل بحری جہاز جیسا پہاڑ بھی‘ مقامی لوگ اس پہاڑ کو سفینہ نوح کہتے ہیں‘ ان کا خیال ہے یہ پہاڑ حضرت نوحؑ کی کشتی تھا‘ اللہ تعالیٰ نے اسے چٹان بنا دیا‘ وہ چٹان دور سے واقعی بحری جہاز لگتی ہے‘ کرک کی وادی خوبصورت اور سرسبز وشاداب تھی‘ ہم پہاڑی سلسلے کے ساتھ ساتھ بل کھاتے ہوئے وادی میں پہنچ گئے‘راستے میں پانی کے چشمے بھی تھے اور وادی میں شاداب کھیت بھی‘ موتہ اب ہم سے زیادہ دور نہیں تھا‘

میں جوں جوں موتہ کے قریب پہنچ رہا تھا‘ میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہو رہی تھیں‘ یہ دھڑکنیں تیز کیوں نہ ہوتیں‘ یہ جانتی تھیں میں انہیں عاشقان رسولؐ کے در پر لے جا رہا ہوں چنانچہ میں جوں جوں موتہ کے قریب پہنچ رہا تھا میری دھڑکنیں ٹوٹ ٹوٹ کر سینے سے باہر لپک رہی تھیں یہاں تک کہ ہم موتہ پہنچ گئے۔موتہ کے دو حصے ہیں‘ موتہ کا میدان اور صحابہ کرامؓ کے مزارات‘ صحابہؓ کے مزارات کے گرد مزار کے نام سے ایک نیا شہر آباد ہو چکا ہے‘ ہم سب سے پہلے حضرت جعفر طیارؓ کے مزار پر حاضر ہوئے‘

آپؓ نبی اکرمؐ کے چچا زاد اور حضرت علیؓ کے بڑے بھائی تھے‘ بے انتہا سخی اور درد دل سے مالا مال تھے‘ اللہ کے حکم پر دو ہجرتیں فرمائیں‘ حبشہ بھی گئے اور مدینہ بھی‘ نجاشی کے دربار میں ایسی تقریر فرمائی کہ وہ بھی مسلمان ہو گیا‘آپؓ جب حبشہ سے مدینہ تشریف لائے تو نبی اکرمؐ نے شہر سے باہر آ کر آپؓ کا استقبال کیا‘ رسول اللہ ﷺ کو آپؓ سے بہت محبت تھی‘ حضرت جعفر طیارؓ کے مزار کے گرد بہت شاندار مسجد تھی‘ ہم مسجد کے برآمدوں سے ہوتے ہوئے حضرت جعفر طیارؓ کی آخری آرام گاہ تک پہنچ گئے‘

میں نے اپنے لرزتے ہاتھ دعا کیلئے اٹھا دئیے‘ میں جوں جوں دعا کرتا گیا میرے سینے میں ٹھنڈ پڑتی چلی گئی‘ میرے جلتے ہوئے دل پر آب زم زم کی بارش سی ہونے لگی یہاں تک کہ دل مضطرب کو آرام سا آ گیا۔ حضرت زید بن حارثہؓ کا مزار بھی اسی کمپاؤنڈ میں ہے‘ ہم دو برآمدوں سے گزر کر اور دو سیڑھیاں چڑھ کر رسول اللہ ﷺ کے اس غلام کے دربار میں حاضر ہو گئے جن کے قدموں کی مٹی پر سینکڑوں بادشاہوں کے تاج قربان کئے جا سکتے ہیں‘ حضرت زید بن حارثہؓ بنو کعب سے تعلق رکھتے تھے‘

یہ بچپن میں غلام بنے‘ حضرت خدیجہؓ کے بھتیجے حضرت حکیم بن حزامؓ نے انہیں خرید کر حضرت خدیجہؓ کو دے دیا اور حضرت خدیجہؓ نے انہیں بعد ازاں نبی اکرمؐ کو ہبہ کر دیا‘ آپؐ نے انہیں اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا‘ حضرت زید بن حارثہؓ واحد صحابی ہیں جن کا نام قرآن مجید میں موجود ہے‘ آپؓ کے والد اور چچا آپؓ کو تلاش کرتے ہوئے مکہ پہنچے‘ نبی اکرمؐ کو ان کی رہائی کے بدلے رقم کی پیش کش کی‘ آپؐ نے فرمایا‘ یہ اگر جاتے ہیں تو آپ مفت لے جائیں لیکن حضرت زیدؓ نے رسول اللہ ﷺ کی غلامی چھوڑنے سے انکار کر دیا‘

نبی اکرمؐ کے یہ منہ بولے صاحبزادے جنگ موتہ میں شہید ہوگئے‘ میں نے آپؓ کے پاؤں میں کھڑے ہو کر عرض کیا”ہم آپؓ کے آقا کی غلامی کے قابل نہیں ہیں‘ خدا را آپؓ ہمیں اپنی غلامی میں قبول کر لیں“ میں دل ہی دل میں یہ فقرے دہراتا جاتا تھا اور اپنی پلکوں پر لرزتی بے بسی سنبھالتا جاتا تھا‘ کاش میرے رسولؐ مجھے اپنے غلام کی غلامی کا پروانہ جاری کر دیں‘ یہ مجھے اپنے غلاموں کی غلامی میں قبول کر لیں‘ یہ مجھے حضرت زید بن حارثہؓ کا غلام سمجھ لیں تو ساری بگڑیاں بن جائیں گی۔ عبداللہ بن رواحہؓ کا مزار ذرا سا فاصلے پر تھا‘

آپؓ انصاری تھے‘ شاعر تھے‘ قبول اسلام کے بعد شاعری ترک کر دی لیکن ایک بار خود رسول اللہ ﷺ نے شعر سنانے کا حکم دیا‘آپؓ نے تازہ ترین کلام پیش کر دیا‘ ناقدین ادب اس واقعے کو نبی اکرمؐ کی سخن نوازی کی دلیل بنا کر پیش کرتے ہیں‘ میں جتنی دیر آپؓ کے مزار پر کھڑا رہا‘ میں دل ہی دل میں آپؓ کے وہ اشعار دہراتا رہا جو آپؓ نے رسول اللہ ﷺ کے حکم پر تخلیق فرمائے تھے‘ میں ہر بار شعروں کے آخر میں عرض کرتاتھا ”یا رسول اللہ ﷺ میں عبداللہ بن رواحہؓ نہیں ہوں لیکن شعر تو ان کے ہیں‘

آپؐ یہ شعر سن کر ایک بار‘ صرف ایک بار میری طرف بھی توجہ فرما دیں‘ میری دنیا اور آخرت دونوں آسان ہو جائیں گے“ نہ جانے کیوں میرا دل یقین کی دولت سے مالا مال ہو گیا‘ مجھے محسوس ہوا میرے رسولؐ نے مجھے حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کے قدموں میں کھڑا ہوا دیکھ لیا تھا‘ آپؐ نے میرے اوپر شفقت کی ایک نگاہ ڈال دی تھی ورنہ میرے اندر یقین کی یہ طاقت پہلے کہاں تھی۔ہم حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کے مزار سے موتہ کے میدان میں پہنچ گئے‘ یہ میدان شہر سے باہر ہے‘ حکومت نے وہاں یونیورسٹی بنا دی ہے‘

جنگ کے میدان کے گرد خاردار تار لگی تھی‘ میدان کے اندر تینوں صحابہ کرامؓ کی جائے شہادت کے نشانات موجود ہیں‘ حضرت جعفر طیارؓ کی جائے شہادت کے بارے میں مشہور ہے وہاں ایک زیر زمین سرنگ ہے جس سے صدیوں سے خوشبو آ رہی ہے‘ یہ بات کس حد تک درست ہے میں بدقسمتی سے تصدیق نہیں کر سکا‘ حضرت زید بن حارثہؓ اور حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کے مقامات شہادت بھی باقاعدہ مارک ہیں‘ ان مقامات کو پتھر اور ستون لگا کر نمایاں کر دیا گیا ہے‘ پورے میدان میں پتھر بکھرے ہوئے ہیں‘

میں دیر تک موتہ کے کنارے کھڑے ہو کر میدان کی طرف دیکھتا رہا اور تاریخ اپنی پوری جزئیات کے ساتھ آہستہ آہستہ میرے سامنے کھلتی رہی۔ نبی اکرمؐ شہادت کی اطلاع دینے کیلئے خود حضرت جعفر طیارؓ کے گھر تشریف لے گئے تھے‘ آپؐ کی آنکھوں میں آنسو تھے‘ آپؐ حضرت جعفر طیارؓ کے بچوں کو پیار کرتے جاتے تھے اور روتے جاتے تھے‘ حضرت جعفر طیارؓ کی اہلیہ حضرت اسماءؓ بھی رونے لگیں‘ آپؐ اپنے گھر تشریف لائے اور حضرت عائشہؓ سے فرمایا ”جعفرؓ کے گھر والوں کیلئے کھانا بنا کر بھیج دو“

آپؐ نے یہ حکم کیوں دیا تھا؟اس کا پس منظر بھی کم دلچسپ نہیں‘ حضرت جعفرؓ دراصل”ابوالمساکین“ کے لقب سے مشہور تھے‘ پورے مدینہ کے مسکین لوگ صرف آپؓ کے دروازے پرجاتے تھے اور جو بھی شخص وہاں جاتا تھا اسے اس گھر سے کھانا ضرور ملتا تھا‘ رسول اللہ ﷺ کا خیال تھا آج غم کی وجہ سے جعفرؓ کے اہل خانہ کھانا نہیں بنا سکیں گے چنانچہ کہیں ایسا نہ ہو جائے آج کوئی مسکین حضرت جعفرؓ کے گھرآئے اور وہ خالی ہاتھ واپس لوٹ جائے چنانچہ آپؐ نے اپنے گھر میں کھانا پکوا کر بھجوا دیا‘

میں نے موتہ کے کنارے پر کھڑے ہو کر یہ واقعہ یاد کیا اور عرض کیا ”یا رسول اللہ ﷺ میں مسکین بھی ہوں اور میں حضرت جعفر طیارؓ کے مقام شہادت پر بھی کھڑا ہوا‘ میں آج یہاں سے خالی ہاتھ واپس چلا جاؤں‘ کیایہ آپؐ کی غیرت گوارہ کر لے گی؟“بس میرے یہ سوچنے کی دیر تھی میدان موتہ کی ہواؤں نے انگڑائی لی اور فضا میں ایک خوشبو سی بکھر گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں