114

انڈیا میں سفارتی عملے کو ہراساں کرنے پر دفترِ خارجہ کا احتجاج

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے نئی دہلی میں سفارتی عملے کو ہراسان کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر انڈیا کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفترِ خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا ہے۔ منگل کو دفترِ خارجہ کے اعلامیے کے مطابق سارک اینڈ جنوبی ایشیا ڈیسک کے انچارج ڈاکٹر فیصل نے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو اپنے دفتر میں طلب کیا اور سفارتی عملے اور ان کے بچوں کے ساتھ ناروا سلوک پر شدید احتجاج کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انڈیا کی خفیہ ایجنسیاں پاکستانی سفارتی اہلکاروں کو ہراساں اور خوفزدہ کر رہی ہیں اور یہ محض ایک واقعہ نہیں ہے بلکہ منصوبہ بندی کے تحت ایسا کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی سفارتی عملے کے اہل خانہ اور بچوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے دفتر خارجہ نے کہا کہ سکول جاتے وقت سفارتی اہلکاروں کے بچوں کی گاڑیاں روک کر ان کی ویڈیو بنائی گئی اور انھیں ہراساں کیا گیا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند دونوں میں سفارتی عملے کی رہائش گاہ کے لیے گیس کی سپلائی بند کرنے، ہائی کمیشن کے ڈرائیوروں کو روکنا اور اُن کا موبائل فون بند کروانا، سفارتی عملے کی گاڑی کا تعقب کرنے جیسے متعدد واقعات ہوئے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ویانا کنونشن کے تحت انڈین حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستانی سفارتی عملے اور ان کے اہلخانہ کا تحفظ کرے۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ ان واقعات کے بارے میں انڈین سیکریٹری خارجہ کو آگاہ کیا گیا لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا کی خکومت غیر ملکی سفارت کاروں کو سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں