38

پاگل خانہ

ان دنوں میرا زیادہ وقت پاگل خانے میں گزرتا تھا‘ لاہور میں پاگلوں کے دو بڑے ڈاکٹر میرے دوست تھے‘ میں جب بھی فارغ ہوتا تھا میں ان کے پاس چلا جاتا تھا اور وہ بڑے بڑے شاندار پاگلوں کے ساتھ میری ملاقات کرواتے تھے‘ ڈاکٹر رشید چودھری ایلیٹ فیملیز اور پڑھے لکھے پاگلوں کے ڈاکٹر تھے‘ ان کے پاس آکسفورڈ‘ کیمبرج اور ہارورڈ یونیورسٹی کے کوالیفائیڈ پاگل آتے تھے‘ میں ایک دن ان کے دفتر گیا تو وہاں ایک نہایت پڑھا لکھا اور

رئیس پاگل بیٹھا تھا‘ پاگل نے قیمتی اطالوی سوٹ پہن رکھا تھا‘مہنگی خوشبو لگا رکھی تھی اور انگلیوں میں کیوبا کا سگاردبا رکھا تھا‘ کمرے سے سگار کی بھینی بھینی خوشبو آ رہی تھی اور پڑھا لکھا پاگل نہایت انہماک کے ساتھ ڈاکٹر

صاحب کو پنجابی‘ اردو اور انگریزی تین زبانوں میں ماں بہن کی گالیاں دے رہا تھا ‘ ڈاکٹر صاحب بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ گالیاں سن رہے تھے‘ جب پاگل تھک گیا تو ڈاکٹر صاحب نے اشارہ کیا اور عملہ پاگل کو کرسی سمیت اٹھا کر لے گیا‘ میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا ”سر آپ کو یہ غلیظ گالیاں سن کر غصہ کیوں نہیں آ رہا تھا“ ڈاکٹر صاحب نے ہنس کر جواب دیا ”کیونکہ میں جانتا ہوں یہ پاگل ہے اور اگر آپ کو پاگلوں کی بات پر غصہ آ جائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے آپ ان سے بڑے پاگل ہیں“ میں نے اس دن یہ بات پلے باندھ لی‘ ہم اگر نارمل ہیں تو پھر ہمیں پاگلوں کی باتوں پر جذباتی نہیں ہونا چاہیے‘ ہمیں پاگلوں کی گالیاں بھی اطمینان سے سن لینی چاہئیں چنانچہ میں جب بھی کسی مشکل صورت حال کا شکار ہوتا ہوں‘ مجھے جب کوئی پاگل ٹکر جاتا ہے تو مجھے ڈاکٹر رشید چودھری یاد آ جاتے ہیں‘ میں پاگل سے معافی مانگتا ہوں‘ اپنا جرم‘ گناہ اور غلطی تسلیم کرتا ہوں اور آگے چل پڑتا ہوں‘ میں پاگل کے ساتھ ڈائیلاگ یا آرگومنٹ کی غلطی نہیں کرتا‘ میں جس دن یہ غلطی کر بیٹھوں میں اس دن نیند کی گولی کے بغیر سو نہیں پاتا‘ دوسرے ڈاکٹرصاحب غریب پاگلوں کے معالج تھے‘ وہ لاہور کے سرکاری پاگل خانے میں کام کرتے تھے‘ میں ہفتے میں دو دن گپ شپ کےلئے ان کے پاس چلا جاتا تھا‘ ان کے

پاس بڑے بڑے معرکة الآراءپاگل ہوتے تھے‘ مثلاً مجھے ایک دن وہاں ایک ایسا پاگل ملا جس کا خیال تھا وہ (نعوذ باللہ) خدا ہے اور اس نے قیامت لانے کا فیصلہ کر لیا ہے‘ وہ اس وقت تک بات نہیں کرتا تھا جب تک مخاطب اسے ”باری تعالیٰ“ نہیں کہتا تھا‘ میں نے ایک دن اس سے قیامت لانے کی وجہ پوچھ لی‘ اس نے غصے سے میری طرف دیکھا اور چلا کر بولا ”وہ دنیا جس میں آلو چار روپے کلو ہو جائیں کیا اسے تباہ نہیں ہو جانا چاہیے“ میں نے فوراً اثبات میں سر ہلا دیا‘

وہ خوش ہو گیا اور بولا ”مجھے دس برسوں میں صرف تم ایک عقل مند آدمی ملے ہو ورنہ اس ملک میں ہر شخص پاگل‘ ہر شخص نالائق ہے“ اس کا فرمان تھا ”تم مجھے ملتے رہا کرو‘ میں تمہیں بہت جلد اپنا ڈپٹی لگا دوں گا“ میں نے سینے پر ہاتھ رکھ کر وعدہ کر لیا لیکن اس کا کہنا تھا ”میں جب بھی آﺅں میں اس کےلئے کے ٹو فلٹر کی دو ڈبیاں لے کر آﺅں“ میں نے یہ وعدہ بھی کر لیا اور میں اس وقت تک اسے سگریٹ فراہم کرتا رہا جب تک آلو سستے نہیں ہوئے اور اس نے قیامت برپا کرنے کا فیصلہ واپس نہیں لے لیا‘

مجھے اس پاگل خانے میں ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاءالحق دونوں سے ملاقات کا شرف بھی نصیب ہوا‘ یہ دونوں ایک ہی بیرک میں رہتے تھے‘ ایک ہی ٹرے میں کھانا کھاتے تھے اور ایک دوسرے کو پھانسی لگانے کا اعلان کرتے تھے‘ بھٹو چلا کر کہتا تھا‘ ضیاءدیکھ لینا میں تمہاری مونچھوں کے ساتھ اپنے بوٹ لٹکاﺅں گا اور جنرل ضیاءقہقہہ لگا کر جواب دیتا تھا ”بھٹو صاحب!میں نے اپنی مونچھیں ہی چھوٹی کرا لی ہیں‘ آپ بوٹ کیسے لٹکاﺅ گے“

اور بھٹو چیخ چیخ کر کہتا تھا ”اوئے بزدل‘ اوئے ڈرپوک اگر مرد کے بچے ہو تو اپنی مونچھیں بڑی کر کے دکھاﺅ“ اور پھر اس کے بعد وہاں ایک عجیب منظر ہوتا تھا‘ بھٹو اپنے کارکنوں کو للکار کر کہتا تھا آگے بڑھو اور اس غاصب کی وردی پھاڑ دو اور جنرل ضیاءعزیز ہم وطنو سے مخاطب ہو جاتا تھا‘ وہ اپنے رفقاءکار کو قوم کی رہنمائی کا حکم بھی صادر کرنے لگتا تھا‘ میری وہاں بنی اسرائیل کے ایک ایسے ”عالم“ کے ساتھ ملاقات بھی ہوئی جو حضرت موسیٰ ؑکے ساتھ مصر سے فلسطین ”تشریف“ لایا تھا‘

وہ بحر احمر کی تقسیم کا آنکھوں دیکھا واقعہ بھی بیان کرتا تھا اور یہ بھی کہتا تھا میں خود حضرت موسیٰ ؑکو کوہ طور تک چھوڑ کر آتا تھا‘ وہ دعویٰ کرتا تھا تابوت سکینہ اس کے پاس تھا لیکن پھر لاہور کے چند بدبخت کشمیریوں نے تابوت چوری کر لیا‘ وہ کہتا تھا آپ میرے ساتھ شاہ عالمی چلو‘ میں تمہیں بتاتا ہوں ان لوگوں نے تابوت سکینہ کہاں چھپا رکھا ہے‘ وہ یہ ساری کہانی بڑے یقین اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتا تھا‘ وہ اس دوران ہیبرو زبان کے بے شمار فقرے بھی بولتا تھا‘

ہمیں بعض اوقات اس کی باتوں پر یقین آنے لگتا تھا‘ بس وہ ایک چیز سے پکڑا جاتا تھا‘ وہ ہمیشہ کہتا تھا‘ میں حضرت موسیٰ ؑ کو (نعوذ باللہ) سائیکل پر بٹھا کر کوہ طور پہنچاتا تھا ‘ اگر اس دوران بدقسمتی سے کسی کے منہ سے یہ نکل جاتا ”جناب سائیکل تو اس وقت تھی ہی نہیں“ اور بس اس کے بعد ہو‘ ہو‘ ہو‘ وہ سائیکل کی ایسی زبردست تاریخ بیان کرتا تھا کہ اللہ دے اور بندہ لے‘ اس کا دعویٰ تھا سائیکل ایجاد نہیں ہوئی تھی‘ یہ اللہ تعالیٰ نے نازل کی تھی‘

وہ سائیکل کے نزول کا ایسا روح پرور واقعہ بیان کرتا تھا کہ توبہ توبہ۔ میری وہاں بے شمار شاندار علماءکرام سے ملاقات بھی ہوئی‘ میں وہاں امام غزالی سے بھی ملا‘ میری وہاں ابن رشد سے بھی ملاقات ہوئی اور بو علی سینا تو وہاں وافر تعداد میں موجود تھے‘ میں وہاں ایک ایسے حاذق طبیب سے بھی ملا جس کا دعویٰ تھا وہ چیونٹیوں کے ذریعے گردے کی پتھری نکال سکتا ہے‘ میں نے پوچھا ”کیسے“ وہ بولا ”گردے کی پتھری میٹھی ہوتی ہے‘ آپ مریض کو آدھی چھٹانک زندہ چیونٹیاں کھلا دیں‘

یہ چیونٹیاں گردے میں پہنچ کر پتھری توڑ دیں گی“ اس کا دعویٰ تھا یہ علاج کیونکہ مفت ہے چنانچہ یہودی فارما سوٹیکل کمپنیوں نے حکومت کے ساتھ مل کر اسے پاگل خانے میں بند کرا دیا ہے‘ یہ جس دن باہر آ گیا یہ پوری میڈیکل سائنس بدل کر رکھ دے گا‘ مجھے وہاں بے شمار سیاستدان بھی ملے‘ وہ سب قوم کی نبض کو بھی سمجھتے تھے اور ان کے پاس ہر ملکی مسئلے کا حل بھی تھا‘ مثلاً ایک ”لیڈر“ کا دعویٰ تھا وہ ایک مہینے میں بے روزگاری کا مسئلہ جڑ سے ختم کر دے گا‘

میں نے پوچھا ”کیسے“ وہ بولا ”حکومت اٹھارہ سال سے اوپر ملک کی ساری آبادی بھرتی کر لے‘ بے روزگاری ختم ہو جائے گی“ میں نے پوچھا ”لیکن تنخواہوں کےلئے پیسے کہاں سے آئیں گے“ اس نے اس کا ایک ایسا شاندار حل بتایا کہ میں فرش پر لیٹ گیا‘ اس کا کہنا تھا‘ آپ سعودی عرب کو اپنے گلیشیئر بیچ دیں‘ سعودی عرب ٹھنڈا ہو جائے گا‘ عمرے کا سیزن بڑا ہو جائے گا‘ آپ ان سے عمرے کی رائلٹی لیں اور لوگوں کو تنخواہیں دیتے رہیں‘ وہاں موجود ایک سائنس دان کے پاس لوڈ شیڈنگ کا حل بھی موجود تھا‘

اس کا کہنا تھا حکومت دس کروڑ چھوٹی چھوٹی ٹربائنیں بنائے‘ ان کے آگے آوارہ کتے جوت دے‘ یہ کتے روزانہ دس کروڑ یونٹ بجلی پیدا کر دیں گے یوں بجلی کا مسئلہ حل ہو جائے گا‘ میں نے پوچھا ”لیکن جناب کتوں کےلئے خوراک کہاں سے آئے گی“ مسکرا کر بولا ”جو کتا بجلی پیدا کرنے کے عمل کے دوران مر جائے وہ کاٹ کر دوسرے کتوں کو کھلا دیا جائے“۔میں دو سال لاہور کے ان دونوں پاگل خانوں میں جاتا رہا‘ وہ میری زندگی کے دلچسپ ترین سال تھے کیونکہ میں نے ان دو سالوں میں سیکھا‘

دنیا کے ہر پاگل میں چھ خوبیاں ہوتی ہیں‘ پاگل بے تحاشہ بولتا ہے‘ یہ بولے گا اور پھر بولتا چلا جائے گا‘ یہ کبھی آپ کی باری نہیں آنے دے گا‘ دو‘ یہ غیر فطری حد تک سنجیدہ ہو گا‘ آپ کبھی کسی پاگل کو ہنستا ہوا نہیں دیکھیں گے‘ وہ قہقہہ بھی لگائے گا تو آپ کو اس کی آنکھوں میں سنجیدگی نظر آئے گی‘ تین‘ دنیا کے 90 فیصد پاگلوں کے پاس بے تحاشہ مذہبی اور روحانی معلومات ہوتی ہیں‘ یہ آپ کو اپنی معلومات سے حیران کر دیں گے‘ چار‘ آپ جتنے بڑے پاگل ہوتے ہیں‘ آپ کے لہجے میں اتنا ہی زیادہ یقین ہوتا ہے‘

آپ کسی پاگل سے مل لیں آپ کو اس کا یقین حیران کر دے گا‘ وہ قسم کھا جائے گا سورج مغرب سے نکلتا ہے اور یہودیوں نے دنیا کو گمراہ کرنے کےلئے مغرب کا نام مشرق رکھ دیا تھا‘ پانچ‘ دنیا کا ہر پاگل دن میں خواب دیکھتا ہے اور یہ اس خواب کو حقیقت سمجھتا رہتا ہے اور چھ‘ دنیا کا ہر پاگل بحث کا استاد ہوتا ہے‘ آپ اسے بحث میں نہیں ہرا سکتے لہٰذا آپ کے پاس اس کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا‘ آپ کو اگر میری آبزرویشن پر یقین نہ آئے تو آپ کسی پاگل خانے کو وزٹ کر لیں‘

آپ میری”پاگل شناسی“ کے قائل ہو جائیں گے اور اگر آپ کے پاس وقت نہیں ہے تو آپ اپنے دائیں بائیں دیکھ لیں‘ آپ کو پاگل خانے جانے کی ضرورت نہیں رہے گی‘ یہ پورا ملک پاگل خانہ بن چکا ہے‘آپ کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک کروڑوں عالم‘ سائنس دان‘ سیاستدان‘ دانشور‘ طبیب اور پیر مل جائیں گے‘ آپ کو ان سب میں یہ چھ کی چھ خوبیاں بھی مل جائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں