169

اس طرح تو ہوتا ہے

میں سپریم کورٹ سے واپس آ رہا تھا تو مجھے1997-98ء کے تین واقعات یاد آ گئے‘ یہ تینوں واقعات چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے متعلق ہیں۔میاں نواز شریف 1997ء میں دو تہائی مینڈیٹ کے ساتھ دوسری مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم بنے‘ خالد انور کو وزارت قانون کا قلم دان سونپ دیا گیا‘ خالد انور ایک ایماندار‘ قانون کے ماہر‘ منکسرالمزاج اور انتہائی پڑھے لکھے شخص ہیں‘ یہ ملک کے چوتھے وزیراعظم چودھری محمد علی کے

صاحبزادے بھی ہیں‘ چودھری محمد علی ملک کے واحد وزیراعظم تھے جو وزارت عظمیٰ کے دور میں اپنا ٹفن گھر سے لاتے تھے‘ کھانا بھی ان کی بیگم پکاتی تھیں‘وزیراعظم کے گھر میں کوئی ملازم بھی نہیں تھا‘ خالد انور کی پرورش اس گھرانے میں ہوئی تھی‘ یہ میاں نواز شریف

کے وکیل تھے‘ یہ وکلاء کے اس پینل میں شامل تھے جس نے 26مئی1993ء کو میاں نواز شریف کی حکومت بحال کرائی تھی‘ میاں صاحب نے اقتدار میں آ کر انہیں وزیر قانون بنا دیا‘ آج کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اس دور میں وکیل تھے‘ یہ لاہور ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری جنرل رہ چکے تھے‘ خالد انور اور ان کی بیگم ان کا بہت احترام کرتے تھے‘ وفاق میں لاء سیکرٹری کا عہدہ خالی تھا‘ خالد انور کی بیگم نے میاں ثاقب نثار سے کہا”خالد کو آپ کی ضرورت ہے‘ آپ لاء سیکرٹری کا عہدہ قبول کر لیں“ میاں ثاقب نثار انکار نہ کر سکے اور یوں یہ میاں نواز شریف کے دوسرے دور میں فیڈرل لاء سیکرٹری بن گئے‘ یہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے لاء سیکرٹری تھے جو بار کے عہدیداررہے‘اس پوزیشن پر عموماً بار کے عہدیداروں کو نہیں لگایا جاتا‘ حکومت میں لاء سیکرٹری اہم ترین عہدیدار ہوتا ہے‘ حکومت کی 90 فیصد فائلیں لاء سیکرٹری کے پاس آتی ہیں اور اس کی منظوری سے آگے جاتی ہیں‘ یہ بیس قسم کے ٹریبونلز کا باس بھی ہوتا ہے اور یہ عدالتوں کے سینکڑوں چھوٹے بڑے ایشوز بھی دیکھتا ہے چنانچہ حکومت شاید وزیراعظم

کے بغیر چل سکتی ہے لیکن لاء سیکرٹری کے بغیر اس کا چلنا ممکن نہیں ہوتا‘ میاں ثاقب نثار کا اس دور میں میاں نواز شریف کے ساتھ اکثر آمنا سامنا رہتا تھا‘ میاں نواز شریف کی شخصیت کے تین پہلو ہیں‘ یہ ایک طرف بڑے بڑے کام کرتے ہیں‘ میں دل سے سمجھتا ہوں پاکستان میں ایوب خان کے بعد میاں نواز شریف دوسرے لیڈر ہیں جنہوں نے ملک میں میگا پراجیکٹس مکمل کئے‘ آپ کو ایٹمی دھماکوں سے لے کر موٹروے‘ بجلی کے کارخانوں اور سی پیک تک ملک کے درجنوں میگا پراجیکٹس کے پیچھے میاں نواز شریف نظر آئیں گے‘

یہ ان منصوبوں کے دوران کسی رکاوٹ کو رکاوٹ نہیں بننے دیتے‘ یہ ان کی شخصیت کا ایک پہلو ہے‘ دوسراپہلو‘ یہ شاہانہ مزاج کے انسان ہیں‘ یہ سمجھتے ہیں میں نے جو کہہ دیا وہ ہو جانا چاہیے اور جو شخص ان کے حکم پر عمل نہیں کرتا یہ اس سے لمبی خاررکھ لیتے ہیں یوں یہ انتہائی چھوٹے ایشوز میں الجھ جاتے ہیں‘ میاں نواز شریف کی شخصیت کا یہ حصہ ان کا سب سے بڑا ڈیزاسٹر ہے‘ یہ ہمیشہ اپنی اس عادت سے نقصان اٹھاتے ہیں‘فوج ہو‘ عدلیہ ہو‘ بیوروکریسی یا پھر سیاستدان ہوں یہ میاں نواز شریف کی اس عادت کی وجہ سے ان پر اعتماد نہیں کرتے اوریوں یہ ہربار سانپ اور سیڑھی کے کھیل کا شکار ہو جاتے ہیں‘

میاں نواز شریف کی شخصیت کا تیسرا پہلو‘یہ کمزور لوگوں کے ساتھ بہت اچھے ہیں‘ یہ ان کے سامنے عاجز بھی ہیں‘ محبت کرنے والے بھی اور مہربان بھی۔ میاں ثاقب نثار فطرتاً قانون اور قاعدے کے پابند ہیں چنانچہ لاء سیکرٹری بنتے ہی ان کا وزیراعظم سے ٹکراؤ شروع ہو گیا‘ پہلا ٹکراؤکرنل مشتاق طاہر خیلی کی وجہ سے ہوا‘ کرنل صاحب ہزارہ کے رہنے والے ہیں‘ ریٹائر فوجی ہیں‘ یہ1997ء میں وزیراعظم کے پولیٹیکل سیکرٹری اور شکایت سیل کے انچارج تھے‘

میاں نواز شریف نے ایک دن چلتے چلتے میاں ثاقب نثار سے کہا ”میاں صاحب آپ کرنل مشتاق طاہر خیلی کو پی آئی اے کا ایم ڈی لگا دیں“ میاں ثاقب نثار خاموش رہے‘ وزیراعظم نے چند دن بعد پوچھا ”میاں صاحب آپ نے کرنل طاہر خیلی کا کیا کیا“ میاں ثاقب نثار نے جواب دیا ”سر یہ کوالی فائی نہیں کرتے“ وزیراعظم مائینڈ کر گئے اور انہوں نے کہا ”میں کہہ رہا ہوں بس آپ لگا دیں“ میاں ثاقب نثار نے جواب دیا ”سر کیا آپ اس شخص کو اتفاق فاؤنڈری کا سربراہ لگا سکتے ہیں“ وزیراعظم مزید مائینڈ کر گئے‘

میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا ”سر ہم جس شخص کو اتفاق فاؤنڈری میں نہیں لگا سکتے‘ ہم فلیگ کیریئر آرگنائزیشن کیسے اس شخص کے حوالے کردیں!“میاں ثاقب نثار نے وزیراعظم کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ یہ اختلاف کا پہلا واقعہ تھا‘ دوسرا واقعہ اس سے بھی خوفناک تھا‘ ملک میں ایک کسٹم ٹریبونل ہوتا ہے‘ یہ ٹریبونل کسٹم سے متعلق درخواستوں کا فیصلہ کرتا ہے‘ 1997ء میں ہائی کورٹ کے ایک جج مجیب اللہ صدیقی ٹریبونل کے سربراہ تھے‘ یہ حیات ہیں اور کراچی میں رہتے ہیں‘

لاء سیکرٹری تمام ٹریبونلز کا باس ہوتا ہے‘ مجیب اللہ صدیقی میاں ثاقب نثار کے پاس آئے اور ان سے کہا ”آپ میرے باس ہیں‘ آپ باس کی حیثیت سے یقینا مختلف مقدموں میں مختلف لوگوں کی سفارش کریں گے‘ میں آپ کو یہ بتانے آیا ہوں‘ میں آپ کی کوئی سفارش قبول نہیں کروں گا چنانچہ آپ سفارش کر کے خود کو اور مجھے شرمندہ نہ کیجئے گا“ میاں ثاقب نثار مجیب اللہ صدیقی کی بات سن کر خوش ہو گئے‘ انہوں نے انہیں یقین دلایا ”میری طرف سے آپ کو کبھی کوئی سفارش نہیں آئے گی“

صدیقی صاحب شکریہ ادا کر کے چلے گئے‘ یہ چند دن بعد دوبارہ تشریف لائے اور لاء سیکرٹری سے کہا ”سر پشاور میں ٹریبونل کے ایک ممبر کی شہرت بہت خراب ہے‘ میرے پاس اس کے خلاف شکایات کا ڈھیر لگا ہے‘ میں اسے کراچی ٹرانسفر کرنے لگا ہوں‘ یہ بہت رسائی والا شخص ہے‘ آپ پر شدیددباؤ آئے گا“ میاں ثاقب نثار نے جواب دیا ”آپ بے خوف ہو کر تبادلہ کریں‘ میں کسی قیمت پر کوئی دباؤ قبول نہیں کروں گا“ مجیب اللہ صدیقی نے ممبر کا تبادلہ کر دیا‘ یہ تبادلہ بھڑوں کا چھتہ ثابت ہوا‘

پہلے فاٹا کے ارکان اسمبلی لاء سیکرٹری کے پاس آئے‘ پھر کے پی کے کے سینیٹرز اور ایم این ایز آنے لگے اور آخر میں سیاسی جماعتیں بھی میدان میں کود پڑیں لیکن ثاقب نثار نے صاف انکار کر دیا‘ اس دوران حکومت اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی‘ حکومت کو سیاسی جماعتوں کی حمایت کی ضرورت پڑ گئی چنانچہ فاٹا اور اے این پی کے ارکان نے ممبر کے تبادلے کا نوٹی فکیشن واپس لینے کی شرط رکھ دی‘ وزیراعظم نے پورا زور لگا دیا لیکن لاء سیکرٹری نہ مانے یہاں تک کہ سی بی آر (اب ایف بی آر) کے چیئرمین معین الدین درمیان میں آئے‘

انہوں نے ممبر کو کسٹم میں واپس لیا اور پھر سی بی آر کے ذریعے اس کا تبادلہ پشاور کر دیایوں یہ بحران ٹلا‘ تیسرا واقعہ دونوں کے درمیان تعلق کا آخری واقعہ ثابت ہوا۔چودھری فاروق(مرحوم) میاں نواز شریف کی دوسری حکومت میں اٹارنی جنرل تھے‘ اس زمانے میں آئی بی کی سترہ درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھیں‘ چودھری منظور ڈی جی آئی بی تھے‘ یہ ایک دن لاء سیکرٹری کے پاس آئے اور کہا ہم نے اٹارنی جنرل سے سپریم کورٹ میں پیش ہونے کی درخواست کی ہے لیکن یہ 35لاکھ روپے فی کیس مانگ رہے ہیں‘

ہم نے چیف جسٹس سے درخواست کی‘ یہ ہماری تمام درخواستوں کو اکٹھا کرنے کیلئے تیار ہیں‘ ہم نے جسٹس (ریٹائر) صمدانی کو وکیل کر لیا ہے‘ یہ پانچ لاکھ روپے میں ہماری تمام درخواستوں میں پیش ہو جائیں گے‘ ہم یہ پانچ لاکھ روپے بھی خود ادا کریں گے‘ لاء ڈیپارٹمنٹ پر بوجھ نہیں پڑے گا‘ آپ بس ہمیں جسٹس صمدانی کو وکیل کرنے کی اجازت دے دیں‘ میاں ثاقب نثار نے فوراً منظوری دے دی‘ اٹارنی جنرل شکار ہاتھ سے نکلنے پر لاء سیکرٹری کے خلاف ہو گئے‘ یہ ان سے لڑ پڑے‘

انہوں نے وزیراعظم کے کان بھی بھر دیئے‘وزیراعظم پہلے ہی بھرے بیٹھے تھے‘ پاکستان مسلم لیگ ن کے بے شمار وکلاء‘ کارکنوں اور ایم این ایز کو بھی لاء سیکرٹری پر اعتراضات تھے‘ وزیراعظم نے ایک دن اٹارنی جنرل سمیت تمام شکایات کنندگان کو وزیراعظم آفس طلب کر لیا‘ یہ دو اڑھائی سو لوگ تھے‘ وزیراعظم نے ان سب کو آڈیٹوریم میں جمع کیا‘ لاء سیکرٹری میاں ثاقب نثار کو بلایا اور کھلی کچہری لگا دی‘ اٹارنی جنرل سمیت ہر شخص وزیراعظم کو اپنی شکایت سناتا تھا اور وزیراعظم لاء سیکرٹری سے پوچھتے ”جی میاں صاحب جواب دیں“ زیادہ تر شکایات تقرریوں سے متعلق تھیں‘

شکایت کنندگان کا کہنا تھا‘ ہم پرانے مسلم لیگی ہیں‘ ہماری حکومت ہے‘ آپ نے مجھے فلاں ڈیپارٹمنٹ میں لاء آفیسر بنانے کا حکم دیا تھا لیکن لاء سیکرٹری نے آپ کے حکم کی پرواہ نہیں کی‘ لاء سیکرٹری کا جواب ہوتا تھا ”سر ان کی ڈگری جعلی ہے‘ ان کا تجربہ پورا نہیں‘ میں انہیں کیسے لگا دوں“ لیکن کارکنوں کا کہنا تھا‘ وزیراعظم سپریم ہیں‘ ان کا حکم آخری ہونا چاہیے‘ میاں ثاقب نثار نے وہاں کھڑے کھڑے فیصلہ کر لیا میں ان لوگوں کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ ”کھلی کچہری“ ختم ہوئی تو یہ خالد انور سے ملے اور اپنا استعفیٰ پیش کر دیا‘

خالد انور نے ان سے معذرت کی اور کہا ”حکومت کی گورننس دیکھ کر میرا دل چاہتا ہے میں سمند میں چھلانگ لگا دوں“ خالد انور نے 12 اکتوبر 1999ء کے بعد پارٹی اور سیاست دونوں چھوڑ دیں‘ یہ صرف وکالت تک محدود ہو گئے۔میاں نواز شریف کی ماضی کی یہ وہ غلطیاں ہیں جو ہمالیہ بن کر اس وقت ان کے سامنے کھڑی ہیں اور مجھے محسوس ہوتا ہے یہ اس بار یہ ہمالیہ عبور نہیں کر سکیں گے‘ ان کاشاہانہ مزاج اور ایماندار لوگوں کی تذلیل انہیں اس بار راستہ نہیں دے گی‘

یہ اس بار ”اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں“ کا شکار بن جائیں گے‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے اور بہتر کرتا ہے‘ یہ میاں نواز شریف کیلئے کوئی راستہ نکال دے تو اور بات ہے ورنہ ملک کے ہر سمجھ دار شخص کو آگے راستے بند نظر آتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں