26

امریکا پاکستان کی فوجی امداد مستقل بند اور پابندیاں لگاسکتا ہے

لاہور(صابر شاہ )امریکی جریدے ’’فارن پالیسی‘‘ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کی امریکی فوجی امداد کی مستقل بندش، سیاسی   پابندیاں،بڑے نان نیٹو اتحادی کا درجہ واپس لینے اور دیگر اقدامات سے متعلق وائٹ ہائوس میں بحث کی جارہی ہے اور گزشتہ ہفتے منتخب ہونے والے امریکی قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن اور سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو اس بحث کو پاکستان کیخلاف اقدامات کی طرف لاسکتے ہیں تفصیلات کے مطابق پاکستانی سرزمین پر 2004 اور 2018 کے درمیان 400 سے زائد ڈرون حملے کرنے والی امریکی انتظامیہ وائٹ ہائوس میں اندرونی بحث میں مصروف ہے کہ پاکستانی سرزمین پر ٓزاد انہ پیدا ہونے والے افغان شدت پسند کیخلاف پاکستان کارروائی میں ناکا م رہا ہے اور اس کیخلاف سزا سے متعلق اقدامات لیے جائیں ۔

اس بات کا انکشاف امریکی جریدے ’’فارن پالیسی‘‘میںایک تازہ آرٹیکل ’’از ٹرمپ ریڈی ٹو ڈمپ پاکستان ‘‘میں کیا گیا ہے۔48 سالہ یہ میگزین سالانہ 6 اہم معاملات کو اپنی ویب سائٹ پر اور شائع کرتا ہے۔میگزین میں کہا گیا کہ آپسی مایوسی اور غلط فہمی امریکا اور پاکستان کے درمیان ہونا ہے ،اس میں دعویٰ کیا گیا کہ جنوری میں 1.3 ارب ڈالرز کی امریکی فوجی امداد روکنے کے باوجود پاکستان اپنی سرزمین پر افغان شدت پسندوں کیخلاف موثر کارروائی میں ناکام رہا ،اہم شدت پسندوں کو گرفتار نہیں کیاگیا اور نہ ہی افغان سرحد پر جنگجوئوں اور اسلحے کا بہائو روکاگیا ۔1970 تا 71 مٰں پروفیسر سمیول اور ان کے دوست نے ویتنام جنگ کے موقع پر اپنے خیالات کو امریکی فارن پالیسی میں آواز دی ،فارن پالیسی لکھتا ہے کہ وائٹ ہائوس سخت بات کررہا ہے اور ماضی میں امریکی نے کبھی پاکستان کو افغان شدت پسندوں سے جنگ کی طرف مائل نہیں کیا ،پا کستا ن کیلئے امریکی سفیر ریان کروکر جوکہ اپنے دس برس پا کستا ن کو ملک میں شدت پسندوں کیخلاف کارروائی کیلئے کوشش کرتے رہے ہیں ،2007 میں اپنی مدت کے اختتام کے تین سال کے دوران کروکر نے اس وقت کے پاکستانی فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے بات کی ۔فارن پالیسی میں کہا گیا کہ کروکر نے بتایا کہ جنرل کیانی نے کہا کہ امریکا کم توجہ دیتا ہے ،اس وقت تم کب تک یہاں رہوگے ،کروکر کے مطابق کیانی نے کہا کہ کیونکہ تم آئو گے اور چلے جائو گے ،انہوں نے بتایا کہ جنرل کیانی نے کہا کہ اگر تم سوچتے ہو کہ ہم طالبان ، حقانی یا دوسروں کا اپنی طرف رخ کردیں اور دیکھیں کہ تم چلے جائو تو تم بالکل پاگل ہو ،کیا ہم اپنی بازی بنارہے ہیں تمہاری بازی ہم ہیں۔

جرنل میں کہا گیا کہ سابق امریکی صدور نے پاکستان کو افغان سرحد پر طالبان یا حقانی کیخلاف کارروائی کرنے کیلئے کوششیں کیں لیکن وہ ناکام رہے اور اب ٹرمپ بھی ایسے ہی چیلنجز کا سامنا کررہے ہیں اور ان کی انتظامیہ میں حکام اس بحث میں الجھے ہیں کہ کس طرح پا کستا ن پر دبائو ڈالا جائے ۔ٹرمپ کے نائب پاکستان پر سیاسی پابندیوں کیلئے پر تول رہے ہیں ،امریکی انتظامیہ کے آپشنز میں پاکستان کا بڑے نان نیٹو اتحادی کا درجہ واپس لینا ،امریکی فوجی امدا د کی مستقل منسوخی جو کہ 2 ماہ قبل منسوخ کی گئی تھی ،اس کے علاوہ پاکستانی حکومت پر شدت پسندوں کی حمایت کے الزام میں ویزا اور دیگر پابندیاں بھی عائد کردینا شامل ہیں ۔فارن پالیسی میں مزید کہا گیا کہ کچھ سرکاری اور فوجی افسران پاکستان سے بدقسمتی سے رعایت کررہے ہیں جس کے بدلے میں کئی برسوں سے امداد دی جارہی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں