82

مشرف غداری کیس، بنچ ٹوٹ گیا، سابق ڈکٹیٹر کے اعتراض پربنچ کے سربراہ کی سماعت سے معذرت

اسلام آباد (نمائندہ جنگ‘ایجنسیاں) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کرنیوالی خصوصی عدالت کا بنچ ایک بار پھر ٹوٹ گیا ، بنچ کے سربراہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے سابق ڈکٹیٹرکے وکیل کے اعتراض پرکیس کی مزید سماعت سے معذرت کر لی جبکہ انٹرپول کے ذریعے پرویز مشرف کی گرفتاری سے متعلق 8 مارچ کا حکم نامہ بھی واپس لے لیا۔ جمعرات کوجسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں جسٹس یاور علی اور جسٹس طاہرہ صفدر پرمشتمل تین رکنی خصوصی بینچ نے وفاقی شریعت عدالت کی عمارت میں کیس کی سماعت کی‘پرویز مشرف کے وکیل کی طرف ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں بینچ کے سربراہ جسٹس یحییٰ آفریدی پر اعتراض اٹھایا گیا تھا،درخواست میں کہا گیا تھاکہ جسٹس یحییٰ آفریدی تین نومبر 2007کے اقدام کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے وکیل رہ چکے ہیں ، انہیں پرویز مشرف کے حوالے سے بغض ہے‘ اس لئے انصاف کی توقع نہیں لہٰذا وہ بنچ سے علیحدہ ہو جائیں اور 8 مارچ کو پرویز مشرف کی گرفتاری کے حوالے سے جاری کردہ

احکامات واپس لئے جائیں، مشرف کے وکلاء کی طرف سے درخواست پر چیمبر میں 40 منٹ تک سماعت ہوئی جس پر فیصلہ محفوظ کیا گیا جسے بعد ازاں سناتے ہوئے جسٹس یحییٰ آفریدی نے مقدمہ سننے سے معذرت کرتے ہوئے خود کو بینچ سے الگ کرلیا،جسٹس یحیی آفریدی نے اپنے تحریری حکم نامے میں لکھا کہ ان پر سابق چیف جسٹس کے وکیل ہونے کا الزام حقائق کے منافی ہے، 3 نومبر 2007 کی ایمرجنسی کے خلاف سپریم کورٹ میں جو درخواست دی گئی تھی وہ اس میں شریک درخواست گزار تھے، انہوں نے بطور وکیل درخواست دائر کی تھی ، اب جبکہ اعتراض اٹھایا گیا ہے تو انصاف کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے غیر جانبداری اور منصفانہ ٹرائل کو یقینی بنانے کے لئے خود کو اس کیس سے الگ کر لیا ہے، فاضل جسٹس نے پرویز مشرف کی انٹر پول کے ذریعے گرفتاری کے حوالے سے 8 مارچ کا حکم نامہ واپس لینے کی استدعا پر کوئی حکم جاری نہیں کیا ،جسٹس یحییٰ آفریدی کیس سننے سےمعذرت کے بعد بنچ تحلیل ہوگیا ہے ۔عدالتی حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ پرویز مشرف کی جانب سے جسٹس یحییٰ آفریدی پر جانبداری کا الزام لگایا گیا تھا ،جس میں موقف پیش کیا گیا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے وکیل رہ چکے ہیں،حکم نامے کے مطابق جسٹس یحییٰ آفریدی کبھی بھی سابق چیف جسٹس کے وکیل نہیں رہے بلکہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے 3 نومبر کے اقدام کیخلاف بطور وکیل درخواست دائر کی تھی تاہم انصاف کے تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے جسٹس یحییٰ آفریدی نے بینچ سے علیحدگی اختیار کی ہے۔اے پی پی کے مطابق جسٹس یحییٰ آفریدی نے کیس سے علیحدہ ہونے کی حکم نامہ جاری کرتے ہوئے پرویز مشرف کی گرفتاری سے متعلق 8 مارچ کا حکم نامہ بھی واپس لے لیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں