26

اسرائیلیوں کو اپنی سرزمین کا حق حاصل ہے: شہزادہ سلمان

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنی سرزمین کا حق حاصل ہے۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان فی الحال کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں تاہم دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں گذشتہ چند سالوں میں بہتری آئی ہے۔ دونوں ممالک کی نظر میں ایران دشمن اور امریکہ اہم اتحادی ملک ہے جبکہ دونوں ممالک کو مسلح اسلامی شدت پسندی سے بھی خطرہ لاحق ہے۔

تاہم دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ اسرائیل اور فلسطین کا مسئلہ ہے کیونکہ سعودی عرب اب بھی ایک خودمختاد فلسطینی ریاست کا حامی ہے۔ امریکی اخباری جریدے دی اٹلانٹک سے بات کرتے ہوئے شہزادہ سلمان بن محمد نے بظاہر اس متنازع خطے پر اسرائیلی اور فلسطینی دعووں کو برابر قرار دے دیا ہے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا یہودی لوگوں کو اپنے قدیمی آبائی علاقوں میں کم از کم جزوی طور پر ایک خودمختار ریاست کا حق ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’میرا ماننا ہے کہ تمام لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک پرامن ریاست میں رہیں۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرا ماننا ہے کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو اپنی اپنی زمین کا حق حاصل ہے۔ مگر ہمیں نارمل تعلقات اور سب کے لیے استحکام کے لیے ایک امن معاہدے کو یقینی بنانا ہوگا۔‘

سنہ 2002 سے سعودی عرب عرب پیس انیشیئیٹوو کا مرکزی حامی ہے جس کے تحت فلسطینی عرب مسئلے کا دائمی حل دو ریاستوں پر مبنی ہے۔ مگر اب تک کسی بھی سینیئر سعودی اہلکار نے اسرائیل کے وجود کا حق تسلیم نہیں کیا تھا۔ اگر شہزادہ سلمان اپنے والد کے بعد سعودی تخت سنبھالتے ہیں تو وہ اسلام کے دو اہم ترین شہروں کے محافظ بھی بن جائیں گے۔ انھوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ انھیں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ رہنے پر کوئی مذہبی اعتراض نہیں جب تک کہ یروشلم کی مسجد القدس محفوظ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں