271

عدلیہ کیلئے ایک کالم

مدت سے اس پرچار میں مصروف ہوں کہ تباہ حال اقتصادیات نہیں برباد شدہ اخلاقیات افراد اور اقوام کیلئے کہیں زیادہ مہلک صورتحال ہے ۔مخصوص مائنڈ سیٹ اور روبہ زوال مافیا کا بدنام زمانہ میڈیا سیل اخلاقی انحطاط کی آخری حدود سے بھی گزر چکا ۔سیاسی عسکری شخصیات کے بعد محترم اور مقبول ترین عدالتی شخصیت کو ٹارگٹ کرنے والا مافیا نہیں جانتا کہ اب کوئی شے انہیں ان کے منطقی انجام اور قدرت کے انتقام سے نہیں بچا سکتی ۔تازہ ترین خوشخبری یہ ہے کہ شریف خاندان کی جائیدادوں کے حوالہ سے برطانوی حکومت نے ’’نیب‘‘ کو ثبوت فراہم کر دیئے ہیں۔

نیلسن نیسکول اور دیگر املاک کا مکمل ریکارڈ فراہم کر دیا گیا ہے اوراب یہ سارا ریکارڈ احتساب عدالت میں پیش کر دیا جائے گا ۔نتیجہ یہ کہ مافیا کے میڈیا سیل نے انتہائی بھونڈے، بدبودار اور بدصورت انداز میں چیف جسٹس عزت مآب میاں ثاقب نثار کے بارے میں کنفیوژن پھیلانے، امیج دھندلانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے یہ مضحکہ خیز سوال اٹھایا ہے کہ ان کا بیٹا لندن کے ایک مہنگے پرائیویٹ سکول میں تعلیم کیسے افورڈ کر رہا ہے ؟تف ایسی ناقص تربیت پر کہ گھریلو تقریبات

کی تصاویر بھی اپ لوڈ کی گئی ہیں ۔میں چیف جسٹس صاحب کے بارے نہ ہونے کے برابر جانتا یعنی صرف اتنا جتنا لاہور کا ہر باخبر شہری جانتا ہے کہ ان کے والد محترم بھی ایک انتہائی کامیاب نامور سینئر وکیل تھے ۔خود میا ںثاقب نثار کا جج بننے سے پہلے صف اول کے وکلاء میں شمار ہوتا اور آپ جناب خالد انور جیسے ممتاز ترین قانون دان کے ساتھ پریکٹس کرتے اور جج بننے میں قطعاً انٹرسٹڈنہیں تھے لیکن اپنے والد کے کہنے پر قربانی دی، آمادہ ہوئے کیونکہ بچہ بچہ جانتا ہے کہ کامیاب وکلاء کی آمدنی جج صاحبان کی تنخواہوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے اور چیف جسٹس آج یہی ’’بھگت‘‘ رہے ہیں تو میرا ایمان ہے کہ قدرت انہیں اس بھگتان کے اجر سے بھی دل کھول کر نوازے گی اور آپ تاریخ ہی نہیں ،پاکستانی عوام کے دلوں میں بھی ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

تنخواہ نہیں بطور قانون دان ان کی انکم بھی دھیان میں رکھو سیانو!پچھلے دنوں میں نے تین مختلف نجی ٹی وی چینلز پر انٹرویوز کے دوران یہ کہا کہ اس بڑھاپے میں پہلی بار مجھے پاکستانی ہونے پر فخر محسوس ہو رہا ہے ۔پہلی بار قانون کے لمبے ہاتھ ریشمی گریبانوں اور اطلسی دامنوں کی طرف بڑھتے دکھائی دیئے ہیں کیونکہ ’’برہمن‘‘ ہمیشہ سے ’’ابو دی لاء‘‘تھے۔

مجھ جیسے ’’عوام‘‘ کیلئے یہ مقام فخر ہمارے چیف جسٹس اور ان کے عالیشان ساتھیوں کا تحفہ اور عطا ہے جس پر ہم ان کیلئے سر تا پا دعا ہیں ۔چند ماہ پہلے ’’چوراہا‘‘ میں ہی CICEROکے اس قول کا حوالہ دیا تھا ۔ʼʼTHE WELFARE OF THE PEOPLE IS THE HIGHEST LAWʼʼالحمدللہ آج ہمارے ملک میں یہی ہو رہا ہے۔تھینک یو عدلیہ !اسی کالم میں یہ محاورہ بھی لکھا تھاʼʼTHE ARM OF THE LAW NEEDS A LITTLE MORE MUSCLEʼʼالحمدللہ یہ MUSCLEپورے ملک کو دکھائی دے رہا ہے ورنہ پہلے یہ ’’شودروں‘‘ کیلئے تو موجود تھا …..’’برہمنوں‘‘ کیلئے غائب….شکریہ عدلیہ !یہ ملک اس بات کا نمونہ تھا کہ بہت سے قوانین پاس تو ہوتے ہیں لیکن پھر ’’بائی پاس ‘‘ کر دیئے جاتے ہیں اور یہ ہمارے مراعات یافتہ طبقات کا پسندیدہ مشغلہ ہے لیکن اب قسم قسم کے حکمران ادھر ادھر بھاگے پھر رہے ہیں ۔’’محل پہ ٹوٹنے والا ہو آسماں جیسے ‘‘کیا یہی ریلیف کافی نہیں کہ وہ رستے کھل گئے جو فرعونوں نے روک رکھے تھے ۔یہ عوام کی گمشدہ عزت نفس کی بحالی کی عظیم علامت ہے جس کی اہمیت سمجھنے کیلئے بھی ذہن اور ظرف درکار ہے ۔شکریہ عدلیہ !انہی لوگوں کی مسلط کردہ بیروزگاری میں روزگار بہت اہم ہے لیکن اپنی اقدار کی قیمت پر نہیں WILLIAM PITTنےخبردار کیا تھا

۔ʼʼWHERE LAW ENDS, TYRANNY BEGINSʼʼمافیا ز کی TYRANNY ختم ہو رہی ہے تو اپنے لئے نہ سہی ، اپنی نسلوں کیلئے اس عظیم عدالتی جہاد میں حصہ ڈالو اور یاد رکھو عوام، عدلیہ اور افواج ہی ہمارے امراض کا علاج اور مسائل کا حل ہے کہ مافیاز تو خود سب سے بڑا مرض ہے ۔آخر پہ اپنے چیف جسٹس کیلئے’’وہ شخص دھوپ میں دیکھو تو چھائوں جیسا ہے‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں