Hum uth kar baith jayenge By Javed Chaudhry

نعیم بٹ سابق اداکار ہیں‘ یہ سو سے زائد تھیٹرز اور ٹیلی ویژن ڈراموں میں کام کر چکے ہیں‘ یہ 1995ءمیں جب مقبولیت کی ”پیک“ پر تھے تو تبلیغی جماعت ان سے ٹکرائی اور انہیں شوبز سے مسجد میں لے گئی‘ نعیم بٹ نے اداکاری چھوڑ دی‘ داڑھی رکھی‘ دین کی تعلیم حاصل کی‘ اللہ کی راہ پر چلے اور پھر کبھی واپس مڑ کر نہیں دیکھا‘ یہ شریف فیملی کے جلاوطنی کے زمانے میں میاں نواز شریف سے ملے‘ مولانا طارق جمیل

انہیں سرور پیلس لے کر گئے تھے‘ میاں نواز شریف نے گفتگو کے دوران نعیم بٹ کی طرف دیکھا اور ان سے پوچھا ”آپ نے اپنا تعارف نہیں کرایا“ نعیم بٹ نے اپنا نام بتایا تو میاں نواز شریف انہیں حیرت سے دیکھنے لگے‘ نعیم بٹ نے اس حیرت کی وجہ پوچھی‘ میاں صاحب نے جواب دیا ”میں حیران ہوں بٹوں میں بھی نیک لوگ پیدا ہو رہے ہیں“ محفل میں ایک قہقہہ لگا اور یہ قہقہہ بعد ازاں میاں نواز شریف اور نعیم بٹ کے درمیان دائمی تعلقات کا ذریعہ بن گیا۔مجھے کل نعیم بٹ کا آڈیو پیغام ملا‘ یہ پیغام گزشتہ کالم ”خدا کےلئے“ کا رد عمل تھا‘ بٹ صاحب نے بتایا ‘میں اور مولانا طارق جمیل ایک بار میاں صاحب سے ملاقات کےلئے گئے‘ مولانا نے میاں صاحب سے فرمایا‘ ہمارے ملک میں جب تک انصاف نہیں ہو گا ہم ترقی نہیں کر سکیں گے‘ آپ کسی نہ کسی طرح ملک میں انصاف قائم کر دیں‘ میاں صاحب نے جواب دیا ”یہ کام میں بھی کرنا چاہتا ہوں لیکن میں کیسے کروں‘ مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی‘ آپ کے پاس اگر کوئی ٹھوس لائحہ عمل ہے تو آپ دے دیں‘ میں اس پر کام شروع کر دوں گا“ مولانا نے فرمایا ”ہمارے پاس بے شمار پڑھے لکھے‘ ایماندار اور نیک جج صاحبان ہیں‘یہ لوگ ریٹائرڈ ہیں‘ آپ ہمیں وقت دیں‘ ہم انہیں اکٹھا کرتے ہیں اور یہ آپ کو جسٹس سسٹم امپروو کرنے کا طریقہ بتا دیں گے“ میاں صاحب راضی ہو گئے‘ وقت طے ہو گیا‘ مولانا طارق جمیل نے جج اکٹھے کئے اور

میٹنگ شروع ہو گئی‘ میاں صاحب نے اپنا سٹاف بھی بلوا لیا‘ جج صاحبان دو گھنٹے بولتے رہے اور میاں نواز شریف دو گھنٹے سنتے رہے یہاں تک کہ آخر میں جج صاحبان نے متفقہ طور پر کہا ”میاں صاحب یہ سسٹم ٹھیک نہیں ہو سکتا ‘آپ یہ خواب دیکھنا

بند کر دیں“ اور یوں وہ دو گھنٹے کی میٹنگ بھی ضائع ہو گئی۔ نعیم بٹ صاحب کا کہنا تھا” میاں نواز شریف واقعی ملک کا جسٹس سسٹم ٹھیک کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ سسٹم کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے‘ جج صاحبان بھی یہاں پہنچ کر ہاتھ کھڑے کر دیتے ہیں‘

آپ کے پاس اگر کوئی تجویز ہے تو آپ دے دیں‘ میں آپ کو گارنٹی دیتا ہوں میں حکومت کو راضی کر لوں گا“ میں نے نعیم بٹ کی گفتگو کے بعد سوچنا شروع کیا تو سچی بات ہے مجھے محسوس ہوا میرے پاس بھی کوئی ٹھوس تجویز موجود نہیں‘ مجھے بھی اگر کہا جائے آپ دو چار تجاویز دے دیں تو میں بھی بے بسی سے دائیں بائیں دیکھنے لگوں گا لیکن میری نالائقی کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں یہ مسئلہ سرے سے حل ہی نہیں ہو سکتا اور ہم اس ملک کو چپ چاپ جنگل بنتے دیکھتے رہیں‘

یہ اکیسویں صدی ہے اور اس صدی میں اب کوئی راز راز نہیں اور کوئی مسئلہ مسئلہ نہیں رہا‘ آپ چند ماہ کی تحقیق سے دنیا کا ہر مسئلہ حل کر سکتے ہیں‘ حکومت ملک کی دو یونیورسٹیوں کو یہ ٹاسک دے دے تو ہمارے پروفیسردنیا کے بہتر جسٹس سسٹمز کا مطالعہ کر کے حکومت کو بے شمار تجاویز دے سکتے ہیں۔ہم اگر واقعی ملک میں اچھا نظام عدل نافذ کرنا چاہتے ہیں تو پہلے ہمیں ماضی میں جھانکنا ہو گا‘ برصغیر کا ماڈرن جسٹس سسٹم 1726ءمیں شروع ہوا تھا‘ ایسٹ انڈیا کمپنی نے مدراس‘ ممبئی اور کولکتہ میں میئر کورٹس قائم کیں‘ یہ برطانیہ کی میئر کورٹس جیسی عدالتیں تھیں‘

یہ عدالتیں 1772ءمیں پلاسی کی جنگ کے بعد برصغیر کے تمام جنوبی علاقوں تک پھیلا دی گئیں‘ 1857ءکی جنگ کے بعد برطانیہ نے ہندوستان کو قبضے میں لے لیا‘ ہائی کورٹس بنائی گئیں‘ 1862ءمیں ایکٹ آ گیا‘ پریوی کونسل ملک کی اعلیٰ ترین عدالت بن گئی اور 1872ءمیں قانون آ گیا‘ ہماری عدالتیں آج بھی اس قانون کے تحت فیصلے کرتی ہیں‘ آپ یہ نقطہ بھی ذہن میں رکھئے انگریز نے ہندوستان میں عدالتی نظام قدیم برطانوی‘ بیوروکریٹک سسٹم جدید فرانسیسی اور فوجی نظام قبائلی سکاٹش متعارف کرایا تھا‘

اس کی وجہ ہمارے خطے کا جغرافیہ اور لوگوں کی عادات تھیں‘ ہم سست لوگ ہیں اور یورپ میں اس زمانے میں فرانس کا بیوروکریکٹ سسٹم سست ترین ہوتا تھا چنانچہ گورے سست لوگوں کےلئے سست ترین نظام لے کر آئے‘ ہندوستان میں جھوٹ بہت بولا جاتا تھا‘ جھوٹ ہمارے جینز کا حصہ تھا چنانچہ گورے نے یہاں ایک ایسا عدالتی سسٹم رائج کر دیا جس میں سائل ایک عدالت سے دوسری عدالت اور دوسری عدالت سے تیسری عدالت میں دھکے کھاتا رہتا تھا‘ عدالتوں کےلئے وکیل بھی لازمی قرار دے دیئے گئے‘

مقصد سچ تک پہنچنا اور سائلوں کو تھکا تھکا کر صلح صفائی پر مجبور کرنا تھا اور ہم کیونکہ قبائل اور طبقوں میں تقسیم تھے چنانچہ یہاں سکاٹش آرمی طرز کا فوجی سسٹم بھی رائج کر دیاگیا‘ سکاٹش لوگ آج بھی پوٹھوہاری اور پٹھانوں جیسے ہیں‘ پیچھے رہ گئی پولیس تو گورے نے یہاں دو قسم کی پولیس متعارف کرائی‘ سارجنٹ گوروں سے ڈیل کرتے تھے اور لوکل پولیس مقامی لوگوں کےلئے تھی‘ لوکل پولیس کی ٹریننگ فوجی تھی‘

یہ مقامی آبادی کے ساتھ وہی سلوک کرتی تھی جو عموماً فاتح فوج مفتوحہ لوگوں کے ساتھ روا رکھتی ہے‘ برصغیر آزاد ہوا تو بھارت نے اس سسٹم کو بہتر بنانا شروع کر دیا مگر ہم نے اس کی بہتری پر توجہ نہیں دی چنانچہ بھارت کا پولیس سسٹم‘ جسٹس سسٹم‘ بیورو کریٹک سسٹم اور فوجی سسٹم بہتر سے بہتر ہوتا چلا گیا اور ہم نیچے سے نیچے آتے چلے گئے‘اب سوال پیدا ہوتا ہے بھارت نے اصلاحات کےلئے کیا کیا؟بھارت نے پورا سسٹم چھیڑنے کی بجائے ملک میں پولیس اور انصاف کے جزیرے بنانا شروع کر دیئے‘

آپ گوا کی پولیس اور عدالتی نظام کو دیکھ لیجئے‘ آپ انڈین سلیکان ویلی بنگلور کا نظام دیکھ لیجئے اور آپ ممبئی اور گجرات کا سسٹم بھی دیکھ لیجئے آپ کو یہ ”جزیرے“ باقی ملک سے بہتر محسوس ہوں گے‘ ہماری حکومت بھی ان اصلاحات کو کاپی کر سکتی ہے‘ ہم جسٹس سسٹم کو بتدریج ٹھیک کریں‘ شروع میں صرف صوبائی دارالحکومتوں پر توجہ بھی دیں‘ ہم کراچی‘ لاہور‘ پشاور‘ کوئٹہ اور اسلام آباد کی پولیس اور عدالتوں کو یورپی معیار پر لے آئیں‘ ہم ان شہروں کی عدالتوں کا انفراسٹرکچر اور ججوں کی تعداد بڑھا دیں‘

انصاف کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ تاخیر ہوتی ہے ہم نے جس دن اپنے نظام عدل سے تاخیر ختم کر دی ہم اس دن ملک میں آدھا انصاف قائم کر لیں گے چنانچہ ہم یہ قانون بنا دیں کم از کم صوبائی دارالحکومتوں میں کوئی مقدمہ چھ ماہ سے آگے نہیں جائے گا اور کسی جج کے پاس پچاس سے زائد مقدمے نہیں ہوں گے‘ ہم جھوٹی گواہی‘ جعلی کاغذات اور غلط مقدمہ قائم کرنے کی بھاری سزا بھی طے کردیں اور یہ سزا بھاری جرمانہ اور جائیداد کی قرقی کی شکل میں ہونی چاہیے‘

ہم موجودہ سسٹم میں ملزموں کو جیل میں بند کر دیتے ہیں‘ یہ ملزم ریاست پر مالی بوجھ ثابت ہوتے ہیں‘ ریاست اس وقت بھی لاکھوں ملزموں کی میزبانی کر رہی ہے‘ ہم ملزموں کو چھت‘ بجلی ‘ گیس اور پانی کی سہولت بھی دیتے ہیں اور کھانا اور کپڑے بھی فراہم کرتے ہیں‘ کیا ملزمان ہمارے گھر داماد ہیں؟ آپ یہ بوجھ بھی ملزم پر شفٹ کریں‘ ریاست ہر ملزم سے کھانے اور رہائش کی رقم وصول کرے اور جو ادا نہ کر سکے اس سے کام لے اور کام کے معاوضے سے اسے ضروریات زندگی فراہم کرے‘ ریاست کو جیلوں کو پیسہ نہیں دینا چاہیے‘

جیلوں کو ریاست کو پیسہ فراہم کرنا چاہیے‘ ہم اگر سزاﺅں کو قید سے جرمانوں پر شفٹ کر دیں اور ان جرمانوں کا 25 فیصد عدالتوں اور ججوں پر لگا دیں تو بھی صورتحال بہتر ہو جائے گی‘ ہم معمولی جرائم کے فیصلے مصالحتی کمیٹیوں اور جرگوں پر بھی چھوڑ سکتے ہیں‘ یہ فیصلے وہاں ہوں اور یہ فیصلے بھی بھاری جرمانوں کی شکل میں ہونے چاہئیں۔ ہم گوگل ایج میں رہ رہے ہیں‘ حکومت جسٹس سسٹم کےلئے یونٹ بنائے‘ یہ یونٹ دنیا کے بہترین جسٹس سسٹمز کا مطالعہ کرے اور ہم کسی ایک ملک کا جسٹس سسٹم اٹھائیں اور اسے من وعن نافذ کر دیں‘ ہم اس سے بھی انصاف کا نظام بہتر بنا لیں گے‘

ہم سپریم کورٹ کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں‘ ایک سپریم کورٹ صرف حکومت اور سیاسی مقدمات سنے اور دوسری سپریم کورٹ ٹرائل کورٹس سے آنے والی اپیلیں نبٹائے‘ یہ فیصلہ بھی انصاف کو بہتر بنادے گا‘ ہم یورپ کی طرح قتل‘ ڈکیتی‘ زنا بالجبر اور فراڈ کو ریاست کے خلاف جرم بھی قرار دے سکتے ہیں‘ ان جرائم کی مدعی ریاست ہو اور ریاست مجرموں کو ہرصورت میں قرار واقعی سزا دے‘ ہمارے پاس تازہ ترین مثال بھی موجود ہے‘ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ریاست مدعی ہوتی ہے اور عدالت فوجی چنانچہ مجرم پھانسی پا رہے ہیں‘

ہم اگلی سٹیج پر فوجی عدالتوں کو سیکرٹ کورٹس میں بھی تبدیل کرسکتے ہیں اور قتل‘ زنا بالجبر اور ڈکیتی جیسے جرائم کو بھی ان عدالتوں کے حوالے کر سکتے ہیں اور آخری درخواست ہم نے جس دن یہ اسٹیبلش کر لیا پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں کوئی مجرم قانون کے ہاتھ سے بچ نہیں سکتا‘ ہم اس دن پاکستان کو واقعی پاکستان بنا لیں گے چنانچہ ریاست یہ تاثر بھی دینا شروع کر دے کہ ہمارے ملک میں مجرم کو صرف اللہ معاف کر سکتا ہے عدالتیں نہیں‘ آپ یقین کرلیں ملک کے مردہ جسم میں روح آ جائے گی‘ ہم اٹھ کر بیٹھ جائیں گے۔

Comments

comments

Shares